امریکہ سے معاہدے کے تحت ایران کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈز مختص، روئٹرز کا دعویٰ
امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے میں 300 ارب ڈالر کے نجی فنڈ کا بھی ذکر ہے جو تہران کے لیے مختص کیا گیا ہے-
اس معاملے سے براہِ راست واقف ایک ذریعے نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ ایک 300 ارب ڈالر کا نجی فنڈ، جو ایران میں سرمایہ کاری کو تحریک دینے کے لیے بنایا گیا ہے، امریکہ-ایران فریم ورک معاہدے میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اور اس رقم کا آدھے سے زیادہ حصہ پہلے ہی مختص کیا جا چکا ہے۔
ذریعے نے بتایا کہ اس فنڈ کا مقصد دونوں فریقین کو اقتصادی ترغیب دینا ہے تاکہ وہ حتمی معاہدے تک پہنچ سکیں-
اس منصوبے کا ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا جبکہ واشنگٹن اور تہران جمعہ کو اس معاہدے پر دستخط کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
امریکی اور ایرانی حکام نے اتوار کو کہا تھا کہ انہوں نے جنگ ختم کرنے کے لیے ایک فریم ورک پر اتفاق کیا ہے-
یہ جنگ اس وقت شروع ہوئی تھی جب امریکی اور اسرائیلی فوجوں نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا- تہران کی جوابی کارروائی اور عالمی تیل و گیس کے اہم سپلائی روٹ خلیج ہرمز کو بند کیے جانے کے بعد پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات شروع کیے گئے تھے تاکہ سمندر میں آمدو رفت کو دوبارہ کھولا جا سکے۔
روئٹرز کے ذریعے کے مطابق نیا فنڈ نجی سرمایہ کاری کا ایک ذریعہ ہے، یہ تعمیر نو یا معاوضے کا پروگرام نہیں اور اس میں کوئی بھی سرکاری رقم یا گرانٹ شامل نہیں ہوگی، اس کے ساتھ ہی ذریعے نے کہا کہ امریکہ، خلیج عرب کی ریاستوں، ایشیا، جنوبی امریکہ اور افریقہ میں کمپنیوں نے اس میں مالی تعاون کا وعدہ کیا ہے۔
ذریعے نے بتایا کہ وعدہ کی گئی سرمایہ کاری توانائی، لاجسٹکس، مینوفیکچرنگ اور ٹرانسپورٹ میں ہوگی۔