پانی کی ٹینکی اوور فلو ہونے کی شکایت کا غصہ، کراچی میں خاتون پر تیزاب سے حملہ
کراچی میں بیوٹی پارلر چلانے والی ایک خاتون نے تیزاب پھینکے جانے کے بعد ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ معمولی شکایت پر اُن کو نشانہ بنایا گیا ہے-
تیزاب سے حملے کے نتیجے میں خاتون کی پیٹھ اور جسم کے دائیں جانب کا حصہ شدید جھلس گیا۔
سول ہسپتال کے برنز وارڈ میں زیرِ علاج خاتون نے ویڈیو بیان میں بتایا کہ کوئی بڑا تنازع یا معاملہ نہیں تھا بلکہ مسئلہ ایک پانی کی ٹینکی کا تھا، جس کے اوور فلو ہونے سے پانی ان کے بیڈ روم میں آ جاتا تھا۔ انھوں نے متعدد بار بلڈر سے شکایت کی، لیکن جب بلڈر نے ملزمان کو سمجھانے کی کوشش کی تو انھوں نے اسے بھی دھمکیاں دیں۔
خاتون نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ واقعے سے پہلے بھی ملزم کا رویہ نا مناسب تھا اور انھوں نے اس کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کرا رکھی تھی۔
کورنگی کے تھانے میں درج ایف آئی آر کے مطابق پولیس کے سب انسپکٹر غلام شبیر نے سول ہسپتال کے برنز وارڈ میں زیرِ علاج متاثرہ خاتون کا بیان قلمبند کیا۔
خاتون نے پولیس کو بتایا کہ وہ کراچی کے علاقے کورنگی میں اپنے دو بچوں کے ساتھ رہتی ہیں اور اپنے فلیٹ کے ساتھ جڑے دوسرے فلیٹ میں بیوٹی پارلر چلاتی ہیں۔ ان کے مطابق پڑوس میں رہنے والے ایک شخص کے ساتھ ان کا پہلے سے عدالت اور پولیس کی سطح پر تنازع چل رہا تھا۔
خاتون نے اپنے بیان میں بتایا کہ 21 جون 2026 کو شام تقریباً چار بجے جب وہ سیڑھیاں اتر رہی تھیں تو ملزم نے انھیں دھکا دے کر گرایا اور ان پر تیزاب پھینک دیا، جس سے ان کی پیٹھ اور دونوں ٹانگیں جھلس گئیں۔
خاتون کی یہ ویڈیو گذشتہ روز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کیے۔
پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا ہے تاہم تاحال ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

