اہم

‘ڈرائیور اور مسافروں میں‌ جھگڑا’، کوئٹہ سے پشاور آنے والی بس کے حادثے میں‌40 ہلاک

جولائی 3, 2026

‘ڈرائیور اور مسافروں میں‌ جھگڑا’، کوئٹہ سے پشاور آنے والی بس کے حادثے میں‌40 ہلاک

بلوچستان کے ضلع شیرانی میں ایک مسافر بس کے گہری کھائی میں گرنے سے کم از کم 40 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حادثے کا شکار ہونے والی بس کوئٹہ سے پشاور جا رہی تھی۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق حادثے کی اطلاع ملنے کے بعد امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا تاہم مقامی حکام کے مطابق بس ایک گہری کھائی میں گری جس کی وجہ سے مسافروں تک پہنچنے اور ان کو ریسکیو کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

جائے حادثے کی تصاویر میں گہری کھائی میں‌موجود بس کا ڈھانچہ نظر آ رہا ہے۔

دانہ سر کا علاقہ بلوچستان کے ضلع شیرانی کا حصہ ہے جو کوئٹہ سے لگ بھگ 400 کلومیٹر کے فاصلے پر شمال مشرق میں واقع ہے ۔

اس ضلع کی سرحد شمال مشرق میں خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سےجڑی ہوئی ہے ۔

ضلع شیرانی میں دانہ سر سے یہ شاہراہ کوئٹہ اور خیبر پختونخوا اور کوئٹہ اور اسلام آباد کے درمیان مختصر ترین راستہ سمجھا جاتاہے۔

یہ ایک دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے جہاں شاہراہ کے ساتھ گہری کھائیاں ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بس حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

ان کا کہنا ہے بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی ضلعی انتظامیہ، ایف سی اور ریسکیو ادارے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

وزیر اعلی نے کہا کہ زخمیوں کو بروقت اور بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ متعلقہ انتظامی افسران حادثے کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔

دوسری جانب جائے حادثے پر موجود عینی شاہدین اور ریسکیو اہلکاروں نے کہا ہے کہ ایک زخمی مسافر نے بتایا کہ حادثے سے قبل ڈرائیور اور مسافروں میں جھگڑا بھی ہوا تھا جس کی وجہ بس پر غیرقانونی تیل لادنا تھا-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے