لاہور میں دو غیرملکی خواتین کا مبینہ اغوا، مجسٹریٹ کے سامنے بیان میں انکشافات
لاہور میں دو غیرملکی خواتین کو مبینہ مبینہ طور پر اغوا کرنے والے چار ملزمان کے بارے میں نئے انکشافات سامنے آئے ہیں-
ایک متاثرہ خاتون غیرملکی خاتون کے مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے تحت قلمبند کیے گئے بیان کے مطابق ملزم محمد رضا ڈار نے خود کو پنجاب کے ایک وزیر علی ڈار کا بیٹا بتایا۔
خاتون نے دعویٰ کیا کہ اس نے وزیر کے انسٹاگرام اکاؤنٹ کے فیملی سیکشن میں محمد رضا ڈار کی پنجاب کے وزیر کے ساتھ گلے ملتے ہوئے ایک تصویر دیکھی۔
متاثرہ خاتون نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ملزم محمد رضا ڈار کے پہلے واٹس ایپ نمبر پر اُن کی پاکستان کے سابق وزیراعظم کے ساتھ تصویر بھی لگی ہوئی تھی۔
خاتون کے مطابق انہی چیزوں کی وجہ سے اس کا محمد رضا ڈار پر اعتماد بڑھا اور وہ پاکستان آئیں-
جمعے کو لاہور کی کینٹ کچہری میں دو غیر ملکی خواتین کو مبینہ مبینہ طور پر اغوا کرنے والے چاروں ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں جوڈیشل مجسٹریٹ اظہر محمود نے پولیس کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔
پولیس نے عدالت سے ملزمان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے انھیں پانچ روز کے لیے پولیس کی تحویل میں دیا۔
عدالتی فیصلے کے بعد پولیس ملزمان کو اپنے ساتھ لے کر روانہ ہوئی جبکہ اس دوران متاثرہ خاتون کا بیان بھی قلمبند کیا گیا۔
غیرملکی خواتین کے اغواء برائے تاوان اور زنا بالجبر کے ریمانڈ پیپرز کے مطابق تھانہ ڈیفنس سی کے مقدمے میں گرفتار 4 ملزمان میں سے احمد رضا ولد مظہر حیات ڈار سکنہ سعید پارک شاہدرہ لاہور کے رہائشی ہیں، دوسرے ملزم سکندر عزیز خان ولد عزیز الحکیم بھٹی سکنہ سکنہ مکان نمبر 24 ڈیفنس فیز 02 اسلام آباد کے رہائشی ہیں، تیسرے ملزم حسن رضا ولد محمد رضا علی سکنہ مکان نمبر 90 / EE ڈیفنس فیز 04 لاہور کے رہائشی ہیں، جبکہ چوتھے ملزم ساجد علی ولد ذو الفقار علی قوم بھٹی سکنہ چک نمبر 13/141 تحصیل چیچہ وطنی ضلع ساہیوال کے رہائشی ہیں۔
پولیس نے عدالت میں تمام ملزمان سے اغواء برائے تاوان کی رقم اور اسلحہ برآمد کرنے کے لیے جسمانی ریمانڈ مانگا تھا۔
پولیس نے جمعرات کو ان خواتین کو بازیاب کروا کر چار ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔
لاہور پولیس کے حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ لڑکیوں کے اغوا کی اطلاع ایک لڑکی کے والد نے فون کر کے دی تھی اور بتایا تھا کہ ان سے 15 لاکھ ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا گیا۔