پاکستان میں وکلا تحریک کے پیچھے کون تھا؟ یوسف نذر کا کالم
جسٹس (ر) اطہر من اللہ نے اپنے حالیہ مضمون میں شکوہ کیا ہے کہ آج پاکستان میں وکلا تحریک جیسی کوئی مزاحمتی لہر کیوں دکھائی نہیں دیتی۔ لیکن اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے وہ ایک ایسے بنیادی سوال سے گریز کرتے ہیں جس کے بغیر پوری بحث ادھوری رہ جاتی ہے: آخر 2007ء سے 2009ء کے درمیان چلنے والی وکلا تحریک کو وہ غیرمعمولی میڈیا توجہ کیوں حاصل ہوئی جو پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی کسی اور احتجاجی تحریک کے حصے میں آئی ہو؟
پاکستان میں کوئی تحریک محض اپنے اخلاقی جواز یا عوامی صداقت کے بل پر ہر ٹیلی ویژن اسکرین پر چھا نہیں جاتی۔ قومی بیانیے میں جگہ حاصل کرنا ایک سیاسی عمل ہے۔ کوئی دروازے کھولتا ہے، کوئی راستہ ہموار کرتا ہے، اور کوئی فیصلہ کرتا ہے کہ کون سی آواز پورے ملک کو سنائی جائے گی اور کون سی خاموشی میں دفن کر دی جائے گی۔
وقت گزرنے کے ساتھ وکلا تحریک کے گرد ایک ایسی داستان تعمیر کر دی گئی ہے جس میں اس کے تمام پیچیدہ اور متنازع پہلو تقریباً غائب ہو چکے ہیں۔ اسے ایک خالص، خود رو اور عوامی جمہوری بیداری کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس نے تنِ تنہا ایک فوجی حکمران کو للکارا اور تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔ لیکن واقعات کا غیر جانبدارانہ مطالعہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ تصویر پیش کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ وکلا تحریک کو اس وقت غیرمعمولی قوت ملی جب ریاستی طاقت کے مختلف مراکز کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔ یہ محض سڑکوں پر نکلنے والے وکلا کی جدوجہد نہیں تھی؛ یہ اقتدار کے ایوانوں میں جاری ایک بڑی کشمکش کے ساتھ بھی جڑی ہوئی تھی۔ ریاستی ڈھانچے کے اندر موجود مختلف قوتیں ایک دوسرے کے مقابل صف آرا تھیں اور وکلا تحریک اس وسیع تر تصادم کا ایک مؤثر اظہار بن گئی۔ اگر مقتدر حلقوں کے اندر یہ تقسیم موجود نہ ہوتی تو شاید یہ تحریک نہ وہ رفتار حاصل کر پاتی، نہ وہ تحفظ میسر آتا اور نہ ہی اسے وہ مسلسل میڈیا کوریج نصیب ہوتی جس نے اسے ایک قومی تحریک کی شکل دی۔
اس بیانیے کا سب سے کمزور اور شاید سب سے زیادہ مبالغہ آمیز پہلو جسٹس افتخار محمد چوہدری کی شخصیت کے گرد پیدا کی گئی تقدیس ہے۔ آج انہیں جمہوری مزاحمت کے ایک استعارے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ ان کا ادارہ جاتی سفر ایک بالکل مختلف کہانی سناتا ہے۔ ایک صوبائی جج سے چیف جسٹس پاکستان کے منصب تک ان کی ترقی انہی طاقت کے مراکز کی سرپرستی میں ہوئی جن کے ساتھ بعد میں ان کا تصادم پیدا ہوا۔ اس دور میں انہیں ریاستی نظام کا ناقد نہیں بلکہ اس کے نمایاں مستفیدین میں شمار کیا جاتا تھا۔ انہیں بعد ازاں ایک ایسے جمہوری ہیرو کے طور پر پیش کرنا جو ہمیشہ سے طاقت کے خلاف برسرِ پیکار رہا ہو، تاریخ کو یاد کرنے سے زیادہ اسے ازسرِ نو تخلیق کرنے کے مترادف ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ کا مضمون ایک اور وجہ سے بھی توجہ طلب ہے۔ وہ اس پورے عہد میں اپنے کردار کا ذکر تقریباً سرے سے نہیں کرتے۔ وہ جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں وفاقی وزیر رہ چکے ہیں۔ اس کے باوجود ان کی تحریر یوں محسوس ہوتی ہے جیسے اُس زمانے کے سیاسی واقعات کو مقتدر حلقوں کی سرپرستی، اشرافیہ کی باہمی رقابتوں اور ریاستی اداروں کے پیچیدہ کردار کا حوالہ دیے بغیر سمجھا جا سکتا ہو۔ حالانکہ یہی عوامل اس پورے دور کی سیاست کو سمجھنے کی کنجی ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ آج وکلا تحریک کیوں موجود نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اب تک گزشتہ وکلا تحریک کے بارے میں ایک ایسے بیانیے سے کیوں چمٹے ہوئے ہیں جو خود احتسابی کے بجائے خود ستائی پر مبنی ہے۔ حقیقی عوامی تحریکیں ریاستی سرپرستی، اشرافیائی پشت پناہی یا دن رات جاری رہنے والی میڈیا تشہیر کی محتاج نہیں ہوتیں۔ ان کی قوت عوامی شرکت، اجتماعی یقین اور مسلسل جدوجہد سے پیدا ہوتی ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں کے بہت سے سیاسی تنازعات اور اقتدار کی کشمکشیں بعد میں جمہوریت کی مقدس داستانوں کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔ وکلا تحریک بھی بتدریج ایسی ہی ایک مقدس روایت میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اس کے پس منظر، محرکات اور حقیقی سیاسی سیاق و سباق پر سوال اٹھانا بعض حلقوں میں گویا گستاخی کے مترادف سمجھا جاتا ہے، حالانکہ دستیاب شواہد کہیں زیادہ پیچیدہ اور کم رومانوی حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
تاریخ کو اساطیر نہیں، دیانت داری درکار ہوتی ہے۔ جو قومیں اپنے ماضی کو افسانوں کے پردے میں دیکھتی ہیں، وہ اپنے حال کو بھی غلط سمجھتی ہیں۔ جب تک ہم آسان اور دلکش داستانوں کے بجائے مشکل یا تکلیف دہ حقائق کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، تب تک نہ ہم اپنے سیاسی ماضی کا درست ادراک حاصل کر سکیں گے اور نہ اپنے موجودہ بحرانوں کی حقیقی نوعیت کو سمجھ پائیں گے۔
(یہ تحریر معاشی تجزیہ کار و مصنف یوسف نذر کے ایکس اکاؤنٹ سے لی گئی ہے)

