انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج پر پولیس کا کریک ڈاؤن
انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں مصروف شاہراہ پر جنتر منتر کے علاقے میں موجود ہزاروں مظاہرین کو اس مقام سے ہٹایا جا رہا ہے۔
پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے مظاہرین کو احتجاج ختم کرنے اور سڑک کو خالی کرنے کے دوران جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
احتجاج کے مقام پر موجود صحافیوں کو پولیس کی جانب سے دور ہٹنے اور محفوظ مقام کو جانے کے لیے کہا گیا۔
پولیس اہلکاروں کی جانب مسلسل طلبہ کو احتجاج کے مقام کو خالی کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔ اس دوران عارضی طور پر بنائے جانے والے سٹیج کو بھی مظاہرین سے خالی کروانے کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ وہی سٹیج تھا کہ جہاں معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال کی تھی اور جہاں سے احتجاج کے منتظمین تقاریر کر رہے تھے۔
سونم وانگچک کو گزشتہ روز حالت بگڑنے پر ہسپتال منتقل کیا گیا تھا-
دوسری جانب انڈیا کے وفاقی وزیرِ صحت جے پی نڈا نے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنا احتجاج ختم کریں اور دارالحکومت میں ’معمول کے حالات‘ بحال کرنے میں مدد کریں۔
ایکس پر جاری اپنے بیان میں وزیرِ صحت نے کہا کہ احتجاج میں شامل تنظیم کے نمائندوں نے آج صبح پہلی بار حکومت سے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا تھا۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، جبکہ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے مظاہرین نے اپنے مطالبات پر مشتمل ایک تحریری درخواست بھی پیش کی۔‘
وزیر صحت نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ احتجاج ختم کر کے دارالحکومت میں معمولاتِ زندگی کی بحالی میں تعاون کریں۔
ادھر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ سے منسلک دو رہنماؤں نے وفاقی وزیرِ صحت جے پی نڈا سے مختصر ملاقات کی تصدیق کی۔
’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے ایک ترجمان سورَو داس نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ انھوں نے وزیرِ صحت کے سامنے اپنے مطالبات رکھے ہیں، جن میں ’دھرمیندر پردھان کے فوری استعفے یا برطرفی‘ کا مطالبہ بھی شامل ہے۔
سورَو داس نے لکھا کہ ’وزیر کی جانب سے ہمیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ اس معاملے پر مناسب سطح پر بات کریں گے، تاہم اب تک کوئی وعدہ نہیں کیا گیا۔ پُرامن مظاہرین اس وقت تک خاموش نہیں بیٹھیں گے جب تک ان کا مطالبہ پورا نہیں ہوتا۔‘

