سلمان رشدی پر حملہ کرنے والا بین الاقوامی نوعیت کی دہشت گردی کا مرتکب قرار
شیطانی آیات نامی کتاب لکھ کر مشہور ہونے والے مصنف سلمان رشدی کو قتل کرنے کی کوشش کے جرم میں 25 سال قید کی سزا کاٹ رہے امریکی شہری کو دہشت گرد گروہ کی معاونت سمیت مزید الزامات میں بھی مجرم قرار پایا گیا ہے۔
ہادی ماتر کو بدھ کے روز نیویارک کی ایک وفاقی عدالت نے لبنان کے مسلح گروہ حزب اللہ کو معاونت فراہم کرنے کے الزام میں مجرم قرار دیا۔ امریکہ، برطانیہ اور کئی دیگر ممالک نے حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔
مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے مؤقف اپنایا کہ ہادی ماتر سلمان کے قتل سے متعلق 1989 میں ایران کے مذہبی رہنما کی جانب سے جاری کیے گئے ایک فتوے سے متاثر تھا۔
ایوارڈ یافتہ مصنف سلمان رشدی نے مقدمے کے دوران گواہی دی، جس میں انھوں نے حملے کی تفصیلات بیان کیں اور کہا کہ ایک فائر فائٹر نے بروقت طبی امداد فراہم کر کے ان کی جان بچائی۔
جیوری نے ہادی ماتر کو بین الاقوامی نوعیت کی دہشت گردی کی کارروائی میں ملوث ہونے اور حزب اللہ کی مادی معاونت فراہم کرنے کا مجرم قرار دیا۔
نیویارک کے شہر بفیلو میں مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ 2006 میں حزب اللہ کے اُس وقت کے رہنما کی ایک تقریر سے متاثر تھا، جس میں سلمان رشدی کے خلاف فتوے پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا تھا، اور یہ کہ اس نے دو برس تک اس حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
گزشتہ برس ہادی ماتر کو سنہ 2022 میں نیویارک میں ایک لیکچر کے دوران سلمان رشدی پر چاقو سے حملہ کرنے کے الزام میں 25 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
اس حملے کے نتیجے میں ایوارڈ یافتہ مصنف کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی تھی۔ اس کے علاوہ ان کے جگر کو نقصان پہنچا تھا اور بازو کے اعصاب کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے ہاتھ مفلوج ہو گیا تھا۔

