اہم خبریں

’صدر وائٹ ہاؤس کا مالک نہیں‌ عارضی مکین ہوتا‘، امریکی عدالت کا ٹرمپ کے خلاف فیصلہ

اگست 8, 2026

’صدر وائٹ ہاؤس کا مالک نہیں‌ عارضی مکین ہوتا‘، امریکی عدالت کا ٹرمپ کے خلاف فیصلہ

امریکہ میں ایک وفاقی اپیل کورٹ نے صدر ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس بال روم کے 400 ملین ڈالر کے منصوبے کو روک دیا ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ "ہر صدر وائٹ ہاؤس کا مالک نہیں بلکہ عارضی مکین ہوتا ہے” اور وہ کانگریس کی منظوری کے بغیر اس کی بنیادی ہیئت تبدیل نہیں کر سکتا۔

اس عدالتی حکم نے ‘نیشنل ٹرسٹ فار ہسٹورک پریزرویشن’ (National Trust for Historic Preservation) کی جانب سے حاصل کردہ اس عبوری حکم امتناعی کو برقرار رکھا جو انہوں نے گزشتہ سال اس وقت دائر کیا تھا جب انتظامیہ نے کانگریس سے اجازت لیے بغیر ‘ایسٹ ونگ’ (East Wing) کو منہدم کر کے 90 ہزار مربع فٹ (8,360 مربع میٹر) رقبے پر محیط بال روم کی تعمیر شروع کر دی تھی۔

عدالتی پینل کی اکثریت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ "کیا ایک بہت بڑا بال روم تعمیر کیا جانا چاہیے یا نہیں، اس کا فیصلہ کانگریس کو کرنا ہے اور یہ معاملہ انتظامیہ کی جانب سے ازخود اقدام (self-help) کا نہیں ہے۔”

اپیل کورٹ نے اپنے فیصلے پر 14 دن کے لیے عمل درآمد روک دیا تاکہ ٹرمپ انتظامیہ کو امریکی سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا موقع مل سکے۔

صدر ٹرمپ، جو مسلسل یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ بال روم کا منصوبہ سکیورٹی کے لیے ناگزیر ہے، نے جمعہ کے روز ‘ٹروتھ سوشل’ (Truth Social) پر ایک پوسٹ میں اس عمارت کو "فوجی مرکز” قرار دیا اور کہا کہ انتظامیہ سپریم کورٹ میں اپیل کرے گی۔

انہوں نے اپیل کورٹ کے فیصلے کو "انتہائی برا” اور سیاسی محرکات کا حامل قرار دیا اور کہا کہ اس فیصلے نے انہیں، وائٹ ہاؤس کے دیگر عہدیداروں اور آنے والے مہمانوں کو حملے کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے لکھا کہ "سپریم کورٹ کو اس غیرمنصفانہ فیصلے کو مکمل طور پر کالعدم قرار دینا چاہیے۔”
انہوں نے کہا کہ بال روم کے منصوبے میں بم شیلٹرز، طبی سہولیات، ڈرونز اور میزائلوں سے تحفظ اور دیگر حفاظتی خصوصیات شامل ہیں جو "سب مل کر ایک بڑے، مہنگے اور انتہائی پیچیدہ یونٹ کی تشکیل کرتے ہیں۔”

نیشنل ٹرسٹ کے صدر برینٹ لیگز نے ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ "ہمارے ملک اور امریکی عوام کے لیے ایک عظیم دن کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ انہیں ان تاریخی مقامات کے بارے میں اپنی رائے کے اظہار کا حق دیتا ہے جنہیں وہ عزیز رکھتے ہیں، بشمول وائٹ ہاؤس۔”

صدر ٹرمپ نے اس وقت اپیل دائر کی جب ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے نامزد کردہ امریکی ڈسٹرکٹ جج رچرڈ لیون نے اس مقام پر زمین کے اوپر تعمیراتی کام کو دو بار روک دیا، جبکہ زمین کے نیچے کام جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔

بال روم کا یہ منصوبہ—جسے انتظامیہ نے بڑی باضابطہ تقریبات اور وائٹ ہاؤس کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری قرار دیا ہے—وسطی واشنگٹن میں سرکاری عمارتوں اور قومی یادگاروں کے منظرنامے کو نئے سرے سے تشکیل دینے کی ٹرمپ کی متعدد کوششوں میں سب سے بڑا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے