اہم خبریں

ستارہ اور تمغا امتیاز پانے کے ’سفارش یافتہ‘ پہلے اور آخری صحافی، ‏امتیاز احمد وریاہ کا کالم

اگست 15, 2026

ستارہ اور تمغا امتیاز پانے کے ’سفارش یافتہ‘ پہلے اور آخری صحافی، ‏امتیاز احمد وریاہ کا کالم

‏ ہمارے دیرینہ دوست ، خبریں اسکول آف تھاٹ کے دنوں کے رفیق کار اور ‏مشقتی شاہزاد انور فاروقی بڑے کایاں صحافی ہیں۔لوگ گھاٹ گھاٹ کا پانی پیتے ہیں ‏مگر ہم مشقتی صحافی میڈیا اداروں کے گھاٹ گھاٹ کی ’’بھوک‘‘ کاٹتے ہیں۔ان جدید ‏، چکا چوند’’خرکار کیمپوں‘‘ میں کئی کئی ماہ کی تن خواہوں سے محروم رہتے ہیں تو اس پر ‏صبرو شکر کرلیتے ہیں ، لیکن اصل المیہ تو اس وقت ہوتا ہے جب کبھی سرکار حاتم طائی ‏کی قبر پر لات مارنے کو آتی ہے تو اس کی ’عدل گستری‘ ہم سے سنبھلے نہیں ‏سنبھلتی۔کیوں، اس کے سامنے وہی سدابہار چار پانچ چہرے ہوتے ہیں، مجال ہے ‏اِدھر سے اُدھر نظر چلی جائے۔ چلیں، اگر کم ہیں تو اب دس، گیارہ کرلیں۔

سرکار ہرسال 14 اگست کو مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کارہائے نمایاں ‏انجام دینے والی شخصیات کو تمغا امتیاز، تمغا حسنِ کارکردگی ،نشانِ امتیاز وغیرہ عطا ‏کرنے کا اعلان کرتی ہے۔ایسے خوش نصیبوں کی ان کے پیشے کے حساب سے کئی کئی ‏خانوں پر مبنی فہرستیں جاری کی جاتی ہیں جن میں شامل افراد میں نصف تک تو انیس ‏بیس کے فرق سے مستحق ہی ہوتے ہیں مگر باقی شامل باجا اور اربابِ اقتدار کے منظورِ ‏نظر۔ان کے نام شامل کرنے کے لیے تانگے کی سواریوں کی طرح ’کو چوانی ترکیب‘ ‏لڑائی جاتی ہے اور تانگے کا ’’بھار یا وَتَربرابر‘‘ کرنے کے لیے ہما شما کو بھی اعزازت سے ‏نواز دیا جاتا ہے۔ کوئی اس عمل کو’’ اندھا بانٹے ریوڑیاں ہر پھر کے اپنو ں ہی کو ‏دے‘‘،کے مصداق قرار دیتا ہے تو کوئی تمغا ہائے چاپلوسی کہتا ہے۔اس پر ہم کیا کہہ ‏سکتے ہیں۔ کیسے کیسے ناہنجار اور بے ذوق لوگ ہمارے یہاں رہتے ہیں۔انھیں کسی کی ‏خوشی راس ہی نہیں آتی۔خوشی سے باچھیں کھلتی ہیں اور نہ دل میں لڈو پھوٹتے ہیں۔ ‏عجیب بے حس لوگوں سے پالا پڑا ہے۔

اوہ ،یہ تو جملہ معترضہ تھا اور بات کہاں سے کہاں چلی گئی اور کسی کتاب کا ‏دیباچہ ہوگیا۔خیر ،جناب فاروقی نے شکر الحمد للہ لکھ کر اعزازات کے مستحق قرار دیے ‏گئے صحافیوں کی فہرست ایک پوسٹ میں جاری کی۔ ’’کتاب چہرہ‘‘ کھولتے ہی سب ‏سے پہلی نظر ان کی پوسٹ پر پڑی۔ ‏

شکرالحمدللہ ۔ پڑھ کر ایک دم دل خوشی سے سرشار ہو گیا، آنکھیں چمک ‏اٹھیں کہ چلو ہمارے ایک دیرینہ مستحق دوست کو حق ملا، گویا حق بہ حق دار رسید ‏ہو گیا کیونکہ ساتھ شکر سے توثیق کی گئی تھی لیکن جب فہرست دیکھی تو اس میں ان کا تو ‏سرے سے نام ونشان تک نہیں تھا۔پھر ہم نے ان کی پوسٹ پر تبصرے میں کہا کہ ‏آپ نے ہماری خوشیوں کا خون کیا ہے،اس لیے آپ پر جرمانہ بنتا ہے۔ ہمارے ایک ‏اور دیرینہ بزرگ دوست مشہور زمانہ بابا احمد لطیف نے لکھا، ’’وہ تو تمغا نہ ملنے پر شکر ‏ادا کررہے ہیں۔‘‘ ‏

ہم ٹھہرے بھولے بھالے ،سیدھے سادے شہراقتدار میں پینڈو کے پینڈو۔ ‏ہم نے خوش نصیب صحافیانِ وطن کی فہرست ملاحظہ کی۔ہمارے پیشہ صحافت کے ‏مشہور ومعروف صحافی جناب صالح ظافر کا نام ستارہ ٔامتیاز پانے کے مستحق سفارش ‏کنندگان میں سرفہرست تھا۔ ہمیں جھٹکا لگا۔ یہ صالح بھائی کے ساتھ زیادتی نہیں ‏ہوگئی۔انھیں توان کی شاندارصحافتی خدمات کے صلے میں اعلیٰ ترین اعزاز ’’نشان ‏حیدر‘‘ سے نوازا جانا چاہیے تھا۔ اس مقصد کے لیے اگر پارلیمان سے ترمیم وغیرہ کی ‏ضرورت پیش آتی ہے تو حکومت کو یہ بھی کرگزرنی چاہیے۔آخر 27،26 ترمیمیں تو ‏وہ آئین میں کرچکی ہے۔ صالح بھائی کا فہرست میں پہلے نمبر پر نام لکھنے سے سارے ‏دلدر دور تو نہیں ہوتے۔آخر ان ایسا آزمودہ کار، سردوگرم چشیدہ مایہ ناز صحافی کہاں ‏ملے گا۔اپنی ’حیاتِ صحافت‘ میں انھوں نے کئی وزراء اعظم اور صدور کے گھاٹوں کا ‏پانی پی رکھا ہے۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) میں ان کے نا م کی گونج ‏ہے۔حتیٰ کہ اس کے فیض یافتگان کی فہرست میں شامل ان کا نام عدالتِ عظمیٰ تک ‏پہنچا ہوا ہے۔ ‏

‏ آپ مذاق سمجھ رہے ہیں کیا؟ بھائی جان ،ہمارا آپ کا کوئی مذاق نہیں۔ آپ ‏بھول چکے ہیں، حافظہ ساتھ نہیں دے رہا تو ہمارا قصور؟ تو جانیے، یہ صالح ظافر ہی ہیں ‏جن کی تفتیشی اور تحقیقاتی صحافت ہر حکومت کے جانے اور ہرنئی حکومت کے آنے ‏کے وقت بروئے کارآتی ہے ۔وہ ایسے مواقع پر شاندار، جاندار اور سدابہار زندہ ‏کہانیاں سامنے لاتے ہیں۔ان کے اندوختے میں ایسا ایسا نادر ونایاب’’مال‘‘ ہے کہ ‏کوئی دوسرا صحافی کیا جانتا ہوگا۔وہ جانے بھی کیونکر، یہ مال تو صرف چند ایک خوش ‏نصیبوں ہی کو ’’عطائے ماخذ‘‘ سے ملتا ہے۔وہ ایسے الفاظ وتراکیب کاچناؤ کرتے ہیں کہ ‏صاحب اقتدار کوئی بھی ہو،اس سے ان کی ہجو اور مدح سرائی کی صفت پر کچھ فرق ‏نہیں پڑتا۔

جانتے ہو،یہ صالح ظافر ہی تھے ، جنھوں نے ہمیں بتایا تھا کہ 12 اکتوبر ‏‏1999ء کو میاں نواز شریف کی دوسری حکومت ختم ہونے کے بعد وزیراعظم ہاؤس ‏کے کس بیڈ سے کون سی اور کتنی مقدار میں قوت بخش حُبوب برآمد ہوئی تھیں۔ کس ‏بستر پر کون سا رنگ چڑھا ہوا تھا۔ وغیرہ ۔اب بھی وہی ہمیں اندر کی خبر وں سے باخبر ‏رکھتے ہیں۔ان ایسی صحافت کوئی مشقتی کہاں کرسکتا ہے۔وہ تو بے چارہ سیدھی سیدھی ‏منشی گیری کرتا ہے۔

اب آپ کہیں گے، یہ لکھاری بھی عجیب شخص ہے، ملک کے ایک ہی ممتاز ‏صحافی کا قصہ سنانے بیٹھ گیااور باقی خوش نصیبوں کا کچھ نہیں بتا رہا۔ایک مرتبہ پھر ‏فہرست پر نظر دوڑاتے ہیں ۔درمیان والے سارے نام چھوڑ دیتے ہیں کہ اہلِ وطن ‏ان کے چہروں ، خامہ فرسائیوں اور گل افشانیِ گفتار سے آگاہ ہیں۔ بالکل آخر میں ایک ‏نیا، ناآشنا سا نام نظر نواز ہوا۔تمغا امتیاز کے لیے سفارش کردہ گیارھویں نمبر پر جناب ‏تصور عرفات کا اسم گرامی موجودہے۔ہم نے اپنی بے خبری کو کوسنے دیے۔ بڑے ‏میاں، تمھارے شہر میں اتنا بڑا صحافی ’پروان ‘ چڑھ گیا ،صحافت (ابلاغ عامہ) میں اگلا ‏تمغا امتیاز بھی آیندہ 23 مارچ 2027ء کو اپنے گلے میں سجانے کو ہے اور تمھیں اس ‏کے بارے میں ککھ پتا ہی نہیں۔ اپنی بے خبری اور علمی بے بضاعتی پر کفِ افسوس مل ‏ہی رہے تھے اوراسی ادھیڑ بن میں تھے کہ یہ عفیف کب شہراقتدار میں پیشہ صحافت ‏میں وارد ہوئے ۔کس میڈیا ادارے سے وابستہ ہیں۔ رپورٹر ہیں تو کون سی بیٹ کرتے ‏ہیں۔سب ایڈیٹر، کاپی ایڈیٹر یا نیوز ایڈیٹر ہیں تو کس ادارے میں؟ کوئی اینکر شینکر ہیں ‏تو کس ٹیلی ویژن چینل پر سرِ شام نمودار ہوتے ہیں یا اے بی سی تصدیق شدہ کسی ‏روزنامہ ’’پھتو ٹائمز‘‘ کے ایڈیٹر ہیں جس کا سال، چھماہی کے بعد دیدارِ عام ہوتا ہے، ‏وہ بھی پی آئی ڈی کی ویب گاہ پر اخبارات کی حاضری کی فہرست میں۔ ‏

وہ اس کو کیا کہتے ہیں، فیڈ۔ اس کو اسکرول ڈاؤن کیا تو پتا چلا،حضرت تصور ‏عرفات سرکاری ملازم ہوتے ہیں اور وایا بٹھنڈا پی ٹی وی پہنچے ہیں۔ شاید وزیراطلاعات جناب عطاء اللہ تارڑ کے ساتھ ‏قوم کو حکومت کی سرگرمیوں کی اطلاعات بہم پہنچانے کی خدمات انجام دیتے ہیں ۔ہم ‏نے دماغ پر تھوڑا زور ڈالا کہ انھیں پھر صحافیوں کے زمرے یا کوٹے میں کیوں تمغا ‏امتیاز سے نوازا جارہا ہے۔اس کی ایک ہی وجہ سمجھ میں آ سکی ،شاید جن صحافیوں کے ‏کاغذات کا پلندا سرکار کو پہنچا، وہ دس ہی تھے، باقی ناموں پر غور کرنےکی ضرورت ہی ‏پیش نہیں آئی۔ورنہ انعامات واعزازت کے مستحق صحافی تو دسیوں ، بیسیوں ہیں۔ اس ‏لیے سرکار نے سوچا لگے ہاتھوں اپنا بندہ اسی فہرست میں اڑس دیتے ہیں۔وہ بھی تو ‏دوسرے صحافیوں کی طرح سرکاری مواد ہی کی تشہیر کرتا ہے۔اگر کوئی اعتراض کرتا ‏ہے یا اعتراضات کی بھرمار ہوگئی توکہیں گے غلطی ہوگئی لیکن کون جیتا ہے، تیری ‏زلف کے سر ہونے تک۔
اللہ اللہ ، خیر سلّا۔
لیکن یہ کہہ کر بات ختم نہیں ہوئی۔ صالح بھائی سے زیادتی پر ہمارا احتجاج ‏برقرار ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے