ڈیجیٹل دور میں میڈیا کے بے وقعت بوڑھے ’پیغام رساں‘، علی ارقم کا کالم
انگریزی ادب کی تعلیم کے دنوں میں جب استادی ممتاز علی شاہ (سابق پرنسپل جہانزیب کالج سوات) شاعری کا سیکشن پڑھاتے، تو کچھ نظموں کی قرات کرتے سمے ان کے لہجے میں جوش و خروش آجاتا، ان میں ولیم بٹلر ییٹس (W.B. Yeats) کی مشہورِ زمانہ نظم "بازنطین کی جانب عازمِ سفر” (Sailing to Byzantium) بھی شامل تھی
اس نظم میں ییٹس بوڑھے لوگوں کی سماجی بے بسی یا لاتعلق ہوجانے کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہتے ہیں
"An aged man is but a paltry thing,
A tattered coat upon a stick…”
بوڑھا شخص محض ایک بے وقعت چیز ہے،
لکڑی کے ڈنڈے پر لٹکائے گئے بوسیدہ کوٹ کی مانند
گاؤں دیہاتوں میں، آپ نے کھیتوں یا باغات میں "کاٹھ کا پتلا” (Scarecrow) دیکھا ہوگا، جسے کسان کھیتوں یا باغات میں پرندوں کو ڈرانے کیلئے نصب کرتے ہیں، اس پتلے میں نہ جان ہوتی ہے، نہ ہی طاقت، بس وہ دور سے ڈرانے کا کام کرتا ہے-
ہمارے موجودہ سیاسی و صحافتی منظر نامے پر بھی ایسے ہی کچھ کاٹھ کے پتلے نصب ہیں۔ البتہ المیہ یہ ہے کہ ان سے ڈر کر چڑیا اڑے نہ اڑے، ان پتلوں کے خشک کندھوں پر بیٹھ کر کوے کائیں کائیں ضرور کرتے ہیں-
یہ کوئی نیا عارضہ یعنی بیماری یا وبا نہیں-
دو ہزار آٹھ سے تیرہ کی پی پی پی حکومت کا دور یاد کریں جب جیو ٹی وی کے ٹاک شوز پر حامد میر، کامران خان، شاہد مسعود اور دیگر چینلز کے اینکرز ہر روز حکومت کے جانے کی پیشگوئیاں کرتے تھکتے نہیں تھے-
شاہد مسعود تو اکثر یہ دعویٰ کرتے نظر آتے تھے کہ ایوانِ صدر سے بہت جلد ایمبولینس نکلنے والی ہے-
اس وقت آصف علی زرداری نے ایک تقریر میں میڈیا کے اس مرض کی بالکل درست عکاسی کرتے ہوئے ان ٹی وی اینکرز کو "سیاسی اداکار” قرار دیا تھا-
یہ اداکار آج بھی ویسا ہی پرفارم کر رہے ہیں، بس ان کا اسٹیج بدل گیا ہے-
آج کی مین سٹریم ویڈیو صحافت، چاہے وہ ٹیلی ویژن کے پرائم ٹائم شوز ہوں، یا ان دنوں یوٹیوب اور سوشل میڈیا کے کلپس، تقریباً مکمل طور پر ڈرامائی بیان بازی تک محدود ہے
کریڈیبل صحافیوں کے پاس اب سکرین پر آنے کی لگژری، تعلقات یا سرکاری منظوری (Clearance) نہیں رہی۔ جبکہ کچھ وہ چہرے ہیں جو کسی طور اس نظام کا حصہ رہے اور اب بیرونِ ملک بیٹھ کر یوٹیوب کے ویوز اور کلکس سے کما رہے ہیں-
نتیجتاً، پاکستان میں براہِ راست فیلڈ سے صحافت، گراؤنڈ رپورٹس، انویسٹیگیٹو اسٹوریز اور سنجیدہ نوعیت کے انکشافات (Exposes) اب مکمل طور پر غائب ہو چکے ہیں
مین سٹریم صحافت ریاست (یہاں ریاست سے مراد منتخب نمائندے، سیاسی حکومت اور ماتحت ادارے ہیں) کا نام نہاد "چوتھا ستون” بننے کے بجائے محض ایک سہولت کار بن چکی ہے، جس کا جمہوری عمل سے کوئی تعمیری تعلق نہیں-
نیوز انڈسٹری کے بدلتے ایکو سسٹم میں اپنی بقا اور ریلیونس کے لیے ہاتھ پیر مارتی ان میڈیا شخصیات نے اپنا مقصد و دائرہ کار سٹوڈیوز یا ویب کیمز کے پیچھے بیٹھ کر مقتدر حلقوں کی پیغام رسانی تک محدود کر لیا ہے، وہ محض دھمکیوں، مخصوص لیکس اور سیاسی جوڑ توڑ کو مزید ایمپلیفائی کرنے والے لاؤڈ سپیکر بن چکے ہیں-
اب نئے تقاضوں اور پریس کانفرنسوں کے بعد ان کی توجہ کا ظاہری محور گورننس اور حکمرانی پر مرکوز ہے، لیکن اس میں بھی وہ حکومتی پرفارمنس کے تنقیدی جائزے اور پالیسی ساز تجزیے کے بجائے تمام تر زور اس بات پر ہے کہ
کس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے؟
کس کو بچایا جا رہا ہے؟
اور بند کمروں میں کون سی نجی فائلیں تیار کی جا رہی ہیں؟
یہ تبصرہ نگار ان فائلوں، سیاسی دباؤ اور خفیہ حربوں کو نارملائز کرتے ہیں اور سیاسی انجینئرنگ کو ایک قدرتی اور لازمی امر بنا کر پیش کرتے ہیں
ان کی تمام تر توجہ صرف طاقت کی کشمکش اور اندرونی افواہوں پر مرکوز ہے، جبکہ معاشی حالات، کمر توڑ مہنگائی، صحت و تعلیم کے نظام کی خرابی و پستی اور مقامی سطح پر عوامی جوابدہی جیسے سنگین مسائل کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے-
سنجیدہ قومی مسائل کو ایک ٹی وی سوپ سیریل ڈرامے میں بدل دیا گیا ہے، اور قومی بحث روزانہ کی پیشگوئیوں کے ایک کھیل تک محدود ہو کر رہ گئی ہے-
یہ اینکرز اور یوٹیوبرز طاقتور حلقوں کی طرف سے دھمکیاں اور پیغامات پہنچانے والے محض ایجنٹ بنے ہوئے ہیں۔ یہ سیاسی تبصرہ کاری کرپشن کو انصاف یا اصلاحات کی غرض سے زیرِ بحث نہیں لاتی، بلکہ محض یہ اشارہ دینے کے لیے استعمال کرتی ہے کہ کسی سیاست دان کا وقت اب پورا ہونے والا ہے اور امیدواروں کی لائن میں اگلا نمبر کس کا ہے-
عوام تک پہنچنے والا بنیادی پیغام یہی ہے کہ احتساب کا نعرہ یا مطالبہ کبھی بھی انصاف کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ یہ صرف سیاسی دباؤ ڈالنے اور بازو مروڑنے کا ایک ہتھیار ہے-
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب کوئی ان کا یقین بھی کر رہا ہے؟ یا یہ خود ہی اپنے منہ سے "باجی ڈر گئی، باجی ڈر گئی” کی آوازیں نکال کر خود کو خوش کر لیتے ہیں؟
ایکس (ٹوئٹر) پر شور مچاتی جین زی (Gen Z) کی چڑیاں اب ان کے ڈرانے سے نہیں ڈرتیں، بلکہ روزانہ ان کے انھی کندھوں پر بیٹھ کر رقص کرتی ہیں اور ان کا مذاق اڑاتی ہیں
آخر کو یہ گے ڈیبارڈ کا بیان کردہ "سوسائٹی آف دی سپیکٹیکل” (Society of the Spectacle) ہی تو ہے، ایک ایسا ڈراما اور کھیل تماشا جو عملی حقیقتوں سے کوسوں دور اور بالکل لاتعلق ہے-
اس پورے کھیل تماشے میں عام آدمی کا وہی لاچار، بے بس اور بظاہر غیر متعلقہ کردار ہے، جو رابرٹ بولٹ کے مشہور ڈرامے آ مین فار آل سیزنز (A Man for All Seasons) کے کامن مین کا تھا، جو حکام کے بدلنے، قانون کی پامالی اور طاقتوروں کی جنگ میں خاموش تماشائی ہے، جس کی کوئی وقعت نہیں-

