اہم خبریں

پمز ہسپتال کے عملے کے ارکان اسمبلی کی کمیٹی کو آتشزدگی کی وجہ پر متضاد بیانات

اگست 27, 2026

پمز ہسپتال کے عملے کے ارکان اسمبلی کی کمیٹی کو آتشزدگی کی وجہ پر متضاد بیانات

پاکستان کی قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے صحت کے ارکان نے اسلام آباد کے پمز ہسپتال کا دورہ کیا جہاں نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں گذشتہ روز آتشزدگی کے باعث 14 بچے ہلاک ہو گئے تھے۔

جمعرات کے روز اس دورے کے بعد کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسی خبریں سامنے آئی ہیں کہ نرسری میں لگے ایک پرانے اے سی سے سپارک نکلا جس سے آگ لگی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ عملے کے بعض‌افراد نے بتایا کہ وہ اے سی کافی عرصے سے بند تھا جبکہ وہاں لگے دیگر دو اے سی پورٹیبل تھے۔

ڈاکٹر مہیش کا کہنا تھا کہ انھیں عملے کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہاں تاروں کا ایک گچھا تھا جس سے آگ لگی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عملے کی جانب سے دیے گئے متضاد بیانات کی بنیاد پر کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ فی الوقت کسی کو آگ کے ذریعے کا نہیں پتا۔

جے یو آئی کی رکن کمیٹی عالیہ کامران کا کہنا تھا کہ عملے کے بیانات سے ایسا تاثر ملا جیسے انھیں بتایا گیا ہو کہ انھوں نے کیا کہنا ہے۔ ’ایک نقشہ کھینچا جا رہا ہے کہ جیسے اے سی میں دھماکہ ہوا اور اس سے آگ لگی۔‘

ڈاکٹر مہیش کا کہنا تھا کہ جس نرسری میں آگ لگی وہ 1990 میں بنی تھی جبکہ دوسرا وارڈ نیا بنا ہوا ہے۔ ’ہماری رائے ہے کہ نرسری نئے بلاک میں ہونی چاہیے تھی۔‘

’یہ نرسری بچوں کو رکھنے کے لیے فٹ نہیں تھی، یہاں گائنی کا وارڈ ہونا تھا۔‘

کمیٹی کی رکن ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز اور عملے کی جانب سے جس طرح کے متضاد بیانات دیے جا رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ یا تو وہاں کوئی ڈیوٹی پر نہیں تھا یا پھر جو ڈیوٹی پر تھے وہ اس جگہ پر موجود نہیں تھے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے