اہم

انڈیا میں مذہبی آزادی مسلسل تنزلی کا شکار، امریکی کمیشن کا سخت انتباہ

اگست 28, 2026

انڈیا میں مذہبی آزادی مسلسل تنزلی کا شکار، امریکی کمیشن کا سخت انتباہ

واشنگٹن — امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) نے اپنی اگست 2026 کی نئی کنٹری بریف میں کہا ہے کہ انڈیا میں مذہبی آزادی کی صورتحال مسلسل تنزلی کا شکار ہے اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی قوانین، تشدد اور ریاستی پابندیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مسیحیوں، مسلمانوں اور دلت برادریوں کے خلاف پرتشدد حملے جاری ہیں، جبکہ بہت سے واقعات میں ذمہ داروں کے خلاف مؤثر کارروائی یا احتساب دیکھنے میں نہیں آیا۔ USCIRF نے اپنی 2026 کی سالانہ رپورٹ میں امریکی محکمہ خارجہ سے سفارش کی ہے کہ بھارت کو مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث Country of Particular Concern (CPC) قرار دیا جائے۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ بھارت میں قومی اور ریاستی سطح پر نافذ متعدد قوانین مذہبی اقلیتوں کو غیر متناسب طور پر متاثر کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں شہریت ترمیمی قانون (CAA)، نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC)، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA)، فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ (FCRA)، مذہب کی تبدیلی سے متعلق قوانین اور گائے کے ذبیحے پر پابندیوں کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے۔

USCIRF کے مطابق جون 2026 تک بھارت کی 28 میں سے 13 ریاستوں میں مذہب کی تبدیلی کے خلاف قوانین نافذ تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہاراشٹرا میں مارچ 2026 میں منظور ہونے والے قانون کے تحت بعض مذہبی تبدیلیوں پر کم از کم سات سال قید کی سزا مقرر کی گئی، جبکہ چھتیس گڑھ میں بھی مذہب کی تبدیلی کو ناقابل ضمانت جرم قرار دینے کے لیے قانون میں تبدیلی کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق 20 بھارتی ریاستوں میں گائے کے ذبیحے کو جرم قرار دیا جا چکا ہے۔ USCIRF نے کہا کہ ایسے قوانین مسلمانوں، مسیحیوں، دلتوں اور دیگر برادریوں کو متاثر کرتے ہیں۔ رپورٹ میں عیدالاضحیٰ کے دوران گائے کے ذبیحے پر عائد پابندیوں اور مختلف عدالتوں کے فیصلوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

کمیشن نے شہریت اور ووٹنگ کے معاملات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2026 کے دوران شہریت ترمیمی قانون، آسام میں NRC اور ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے اقدامات نے خصوصاً مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو متاثر کیا۔ USCIRF کا دعویٰ ہے کہ مغربی بنگال میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے دوران لاکھوں نام حذف کیے گئے، جبکہ بنگالی بولنے والے بعض مسلمانوں کی بنگلہ دیش کی جانب بے دخلی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔

رپورٹ میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف ہجومی تشدد کے متعدد واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہندو قوم پرست گروہوں کی جانب سے مسیحیوں اور مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ USCIRF نے اوڈیشہ میں ایک پادری پر تشدد، چھتیس گڑھ میں ایک مسیحی خاندان کے گھر پر حملے اور ایک مسیحی آبادی پر ہتھیاروں سے کیے گئے حملے سمیت مختلف واقعات کو نمایاں کیا ہے۔

کمیشن کے مطابق 2026 کے پہلے نصف میں متعدد مساجد، درگاہوں اور دیگر مذہبی مقامات کو بھی منہدم کیا گیا۔ رپورٹ میں راجستھان اور اتر پردیش سمیت دیگر ریاستوں میں مسلم مذہبی عمارتوں کو “غیر قانونی تعمیرات” قرار دے کر گرائے جانے کے واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔

امریکہ کے کمیشن نے بھارتی حکومت پر مذہبی اور سماجی تنظیموں کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔ رپورٹ کے مطابق FCRA کے تحت ہزاروں تنظیموں کے غیر ملکی فنڈنگ لائسنس منسوخ کیے جا چکے ہیں، جن میں مسیحی اور دیگر مذہبی ادارے بھی شامل ہیں۔ کمیشن نے 2026 میں مجوزہ مزید ترامیم کو مذہبی تنظیموں کے لیے ممکنہ طور پر نقصان دہ قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں انٹرنیٹ بندش، آزادی اظہار اور مذہبی آزادی سے متعلق مواد پر پابندیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ USCIRF نے بھارت میں انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن اور ڈیجیٹل مواد پر حکومتی کنٹرول کو مذہبی آزادی اور اظہار رائے کے لیے ایک اضافی چیلنج قرار دیا ہے۔

امریکی کمیشن نے بھارت سے منسوب بین الاقوامی دباؤ اور Transnational Repression کے الزامات کو بھی رپورٹ کا اہم حصہ بنایا ہے۔ USCIRF نے سکھ کارکنوں کو مبینہ دھمکیوں، کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجار کے قتل سے متعلق الزامات اور امریکا میں ایک سکھ شہری کے قتل کی مبینہ سازش سے متعلق امریکی عدالتی کارروائیوں کا حوالہ دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مذہبی آزادی یا مذہبی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے متعدد افراد بدستور حراست یا قید میں ہیں۔ USCIRF نے عمر خالد، شرجیل امام، جگتار سنگھ جوہل اور علی خان محمود آباد سمیت کئی افراد کے نام اپنی مذہبی آزادی سے متعلق متاثرین کی فہرست کے تناظر میں بیان کیے ہیں۔

امریکی کمیشن نے مجموعی طور پر کہا ہے کہ بھارت میں مذہبی آزادی کی خلاف ورزیاں منظم، مسلسل اور بڑھتی ہوئی سنگینی اختیار کر رہی ہیں، اور اسی بنیاد پر اس نے امریکی محکمہ خارجہ سے بھارت کو CPC قرار دینے کی سفارش برقرار رکھی ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے