ایکس (ٹوئٹر) ’اوریجنل مواد ریوارڈز‘ پروگرام، کیا پاکستانیوں کی ’ڈالر کمائی‘ جاری رہ سکے گی؟
سوشل میڈیا کے بڑے پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) نے تخلیق کاروں کو ڈالر دینے کا پچھلا پروگرام ختم کر دیا ہے، اور آج سے نیا ’اصلی مواد ریوارڈز‘ پروگرام لانچ کر دیا گیا ہے-
یہ پروگرام ایکس کے اُن تخلیق کاروں (Creators) کے لیے ہے جو اپنی تیار کردہ اصلی اور معیاری تحریریں، تصاویر، ویڈیوز یا تجزیے شیئر کرتے ہیں۔ یہ پروگرام پرانے "کریئیٹر ریونیو شیئرنگ” کی جگہ لے رہا ہے۔
پروگرام کیسے تبدیل کیا جا رہا ہے؟
پرانا پروگرام کے لیے 7 اگست 2026 سے نئی رجسٹریشن بند کی جا چکی تھی۔ پرانے ارکان کی کمائی 7 ستمبر 2026 کو ختم ہو گئی ہے اور آخری ادائیگی 11 ستمبر کو کی جائے گی۔
نیا پروگرام کے تحت 8 ستمبر 2026 سے پرانے ارکان بھی درخواست دے سکتے ہیں۔ اور پہلے سے تصدیق شدہ اکاؤنٹس (ID Verified) والے ارکان کو دوبارہ تصدیق کی ضرورت نہیں ہوگی، تاہم اُن کی کمائی خود بخود شروع نہیں ہوگی بلکہ نئی شرائط پوری کرنے کے بعد ہی رقم مل سکے گی-
کمائی کا طریقہ (Qualified Impressions) ادائیگی ہر دو ہفتے بعد قابلِ کمائی ویوز (Qualified Impressions) کی بنیاد پر کی جائے گی۔
نئے پروگرام کے تحت کوالیفائیڈ ویوز ایکس پریمیئم (Premium) صارفین کے ایسے ویوز ہیں جو ہوم ٹائم لائن پر آئیں اور پوسٹ کم از کم 50٪ نظر آئے۔
اسی طرح ایک ہی اکاؤنٹ سے بار بار آنے والے ویوز، اشتہارات (Paid)، مصنوعی (Bot) یا دھوکے سے حاصل کردہ ویوز شمار نہیں ہوں گے۔
مقبول اور ممنوعہ مواد
اصل (اوریجنل) مواد اور ناقابلِ کمائی مواد کی درجہ بندی کر دی گئی ہے-
ذاتی تخلیق: اپنی بنائی ہوئی ویڈیوز، تحریریں یا ڈیزائن ہی اوریجنل مواد شمار کیا جائے گا، جبکہ کاپی یا نقل شدہ مواد وہ کانٹینٹ شمار ہوگا جو دوسرے پلیٹ فارمز یا اکاؤنٹس سے ڈاؤن لوڈ کر کے دوبارہ اپ لوڈ کیا گیا ہو-
منفرد تجزیے، خبروں یا ثقافتی لمحات پر اپنے ذاتی موقف، وضاحت یا ردعمل دینے کو بھی اوریجنل کے درجے میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ معمولی تبدیلی سے ٹیکسٹ، ویڈیو کی سپیڈ یا فلٹر میں معمولی تبدیلی کر کے پوسٹ کرنے کو کمائی کے لیے ناقابلِ قبول قرار دیا گیا ہے-
اصل تناظر وہ ہوگا کہ ایسا مواد جس میں بنیادی ویلیو آپ کے اپنے تبصرے کی ہو، جبکہ ایگریگیٹڈ مواد اُس کو قرار دیا جائے گا جو بغیر کسی تبصرے کے دوسرے لوگوں کے مواد کو جمع کر کے پوسٹ کیا گیا ہو۔
اس کے ساتھ ایکس نے یہ بھی کہا ہے کہ پروگرام میں اہل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کی اجازت ہے۔ کسی اور کی ملکیت کا مواد بغیر اجازت پوسٹ کرنے پر کاپی رائٹ کی کارروائی ہو سکتی ہے۔
نئے پروگرام کے تحت رقم کمانے کی اہلیت
اس کے لیے پہلی شرط وہی برقرار رکھی گئی ہے جو پچھلے پروگرام میں تھی یعنی ایکس کی پریمیئم، پریمیئم پلس، یا پریمیئم بزنس کی سبسکرپشن حاصل کرنا-
دوسری شرط تخلیق کار کا 18 سال عمر کی حد سے اوپر ہونا جبکہ تیسری شرط کا اضافہ کیا گیا ہے کہ اب آپ کے اکاؤنٹ کے کم از کم 500 ویریفائیڈ فالوورز ہوں، یعنی کم از کم ایسے 500 افراد یا اکاؤنٹس آپ کو فالو کرتے ہیں جن کے پاس ایکس کی پریمیئم، پریمیئم پلس، یا پریمیئم بزنس کی سبسکرپشن ہو-
اس کے بعد ایک اور مشکل شرط کا اضافہ کیا گیا ہے کہ نئے پروگرام میں تخلیق کار اُس وقت کمائی کے اہل ہوںگے اگر گزشتہ 90 دنوں میں اُن کے مواد کو پانچ لاکھ مرتبہ اُن اکاؤنٹس کی جانب سے دیکھا گیا ہو جن کے پاس ایکس کی پریمیئم، پریمیئم پلس، یا پریمیئم بزنس کی سبسکرپشن ہے-
پرانے پروگرام سے ڈیجیٹل مواد کے تخلیق کاروں کو یہ شکایت تھی کہ اُن کی ویڈیوز دیگر اکاؤنٹس سے پوسٹ کر دی جاتی ہیں جبکہ صارفین کی ایک بڑی تعداد نے ‘کاپی پیسٹ’ اکاؤنٹس کی وجہ سے ایک ہی قسم کا مواد سینکڑوں اکاؤنٹس سے نظر آنے کا شکوہ کیا تھا-
پاکستان میں سوشل میڈیا کے تخلیق کاروں کے کام پر نظر رکھنے والے بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہاں ویڈیوز بنانے والے لگ بھگ سارے کریئیٹرز یوٹیوب پر ہیں اور اپنا مواد اُسی پلیٹ فارم کے لیے بناتے ہیں ایسے میں ایکس کے نئے پروگرام سے یہ امکان بھی پیدا ہوا ہے کہ اب اس کے لیے الگ سے ویڈیوز اور مواد بنایا جائے گا-

