آبنائے ہُرمز میں پاسدارانِ انقلاب کی امریکی خودکار آبدوز پر حملے کی تصاویر میں کیا ہے؟
ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے ایک امریکی خودکار آبدوز کے قبضے میں لیے جانے کا اعلان کیے جانے کے سینٹکام نے تصدیق کی کہ زیہپید فنی خرابی کا شکار ہوئی تھی-
بیان کے مطابق امریکی بحریہ کی زیہپد کو 24 گھنٹے قبل فنی خرابی کا سامنا ہوا تھا-
ادھر ایران کی سپاہ نیوز ویب سائٹ نے ایسی تصاویر شائع کیں جن کے بارے میں کہا گیا کہ ان میں خودکار آبدوز کو پانی سے نکالتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
سینٹکام کے ترجمان فرسٹ کیپٹن ٹم ہاکنز نے منگل کو برطانیہ کے ٹی وی چینل سے گفتگو میں کہا تھا کہ امریکہ کی ایک زیہپد کو فنی خرابی کا سامنا ہوا تھا۔ زیہپد علاقے میں جاری کارروائیوں کے لیے علاقے کے پانیوں میں گشت کر رہی تھی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ ایک پرانا ماڈل تھا جو حساس معلومات جمع نہیں کرتا تھا اور اس میں خفیہ ریڈار یا سینسر کا سامان موجود نہیں تھا۔ اور یہ کہ علاقائی پانیوں میں امریکی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔
سینٹکام کے ترجمان کے بیان کے جواب میں پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ آبدوز کا فعال ہونا اور کارروائیوں کے دوران استعمال میں ہونا ان کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

