پاکستان

ججوں نے سیاستدانوں کو لتاڑ دیا

مئی 5, 2017

ججوں نے سیاستدانوں کو لتاڑ دیا

پانامہ پیپرز فیصلے پر عمل درآمد کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل سے قبل سپریم کورٹ نے سیاسی رہنماﺅں کو خبردار کیا ہے کہ ججوں کی رائے کی غلط تشریح کرکے جھوٹ بولا گیا تو نتائج بھگتنے کیلئے تیار رہیں۔ تین رکنی خصوصی بنچ کے سامنے ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بنک اور سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کے چیئرمین پیش ہوئے اور اپنے گریڈ اٹھارہ کے افسران کی فہرست جمع کرائی۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اس سے قبل ان دونوں اداروں کے افسران کے جونام آئے تھے ان کے بارے میں معلومات حاصل کیں تو بہت منفی رپورٹ آئی، کسی کی سیاسی وابستگی تھی تو کوئی متعلقہ اہلیت پر ہی پورا نہیں اتر رہا، ہم ان افسران کے نام سامنے نہیں لائیں گے لیکن یہ کچھ اچھا نہیں ہے۔ اٹارنی جنرل اشتراوصاف نے کہاکہ سوشل میڈیا پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اور ججوں کے حوالے سے پروپیگنڈا شروع ہواہے، یہ اچھی بات ہے کہ عدالت نے ان افسران کے نام ظاہر نہیں کیے۔ جسٹس اعجازالاحسن بولے کہ افسران کے نام عدالت میں آنے سے قبل ہی ان کے ادارے سے میڈیا میں لیک ہوئے، یہ سب کیسے ہوا، اس کے ذمہ دار اداروں کے سربراہ ہیں، یہ کام جان بوجھ کر کیا گیا، جے آئی ٹی کو متنازع بنا کر کس کو فائدہ ہوگا؟ نام لیک کرکے مجرمانہ کام کیا گیا۔ اٹارنی جنرل نے ججوں کو مخاطب کرکے کہا کہ سوشل میڈیا کے علاوہ الیکٹرانک میڈیا پر جو کچھ کہا جا رہا ہے، اس کو بھی عدالت نے دیکھا ہوگا۔ جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ ہم میڈیا نہیں دیکھتے، ہم دیکھیں گے بھی نہیں، ہمیں کوئی پروا نہیں کہ ٹی وی پر کیا کہا جا رہا ہے، آسمان گر جائے ہم نے قانون کے مطابق فیصلے دینا ہیں، ہم آئین اور قانون کی تنی ہوئی رسی پر چلتے ہیں، میڈیا اور سیاستدان کیا کہتے ہیں کوئی پروا نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ لوگوں کو بدنام کیا جارہاہے اس کو روکاجائے۔ جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ ہم نے ایسی کوئی بات نہیں کی جو سیاستدان باہر بولتے ہیں، ایک لیڈر نے کہا کہ عدالت کے پانچ ججوں نے وزیراعظم کو جھوٹا کہا ہے، دراصل اس لیڈر نے قوم کے سامنے عدالت کے بارے میں جھوٹ بولا، ہم ان لیڈروں کی سطح تک نہیں اتر سکتے، جج ، سیاسی رہنماﺅں اور مقدمے کے فریقین سے بہت اوپر ہوتے ہیں، ہم نے غیر معمولی تحمل دکھایا ہے اور ضبط سے کام لیں گے لیکن ہم خبردار کرتے ہیں۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ہم سوشل میڈیا کے پروپیگنڈا کرنے والوں کو ٹریس کرسکتے ہیں اور میڈیا کو کنٹرول کرنا بھی آتا ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے، ایک طرف ہم نے عدلیہ کے وقار کو ملحوظ خاطر رکھناہے اوردوسری جانب اظہار رائے و میڈیا کی آزادی کو بھی برقرار رکھناہے۔ جسٹس اعجازافضل بولے کہ جو شخص خود کو لیڈر کہتا ہو، یا جس نے مستقبل میں لیڈر بنناہے اس کو اس طرح ’لوزٹاک‘ نہیں کرنا چاہیے، خواہ وہ شخص یا لیڈر کوئی بھی ہو، کہیں سے بھی تعلق رکھتا ہو، کل سے جو بھی ججوں کانام لے کر اس طرح کی غلط بات پھیلائے گا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ہم آج ہی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیں گے، ہمیں جتنا بھی گمراہ کرنے کی کوشش کی جائے حکم جاری کرکے جے آئی ٹی بنائیں گے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے