ایک اور پاناما کیس
سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل اور جسٹس مقبول باقر پر مشتمل دو رکنی بنچ نے طارق اسد اور سراج الحق کی پاناما پیپرز میں شامل چار سو زائد افراد کے خلاف کارروائی کے لیے دائر درخواستوں کی سماعت کی _
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میری درخواست کو پانامہ کیس میں نہیں ڈیل کیا گیا، طارق اسد کا کہنا تھا کہ میری درخواست کرپشن اور منی لانڈرنگ سے متعلق ہے، میری درخواست 184/3 کے زمرے میں آتی ہے _ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ میں بھی پانامہ لیکس بنچ کا حصہ تھا، آپ سے پوچھ کر درخواست کو ڈیل نہیں کیا گیا تھا _
عدالت نے کہا کہ درخواست میں صرف وفاق اور نیب کو فریق بنایا گیا ہے، طارق اسد نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جج کی نگرانی میں کمیشن تشکیل دیا جائے، جس پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ وفاق کا جواب آنے دیں، جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیئے کہ ساری باتیں آج ہی نہ کریں _
عدالت نے وفاق اور نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم نامے میں لکھا گیا کہ کرپشن ملک کے ہر محکمے میں پھیل گئی ہے، عدالت نے لکھا کہ کسی ایک یا دو افراد کے خلاف کارروائی اس کا حل نہیں، کرپشن جیسے بڑے عفریت کے خاتمے کیلئے ہمہ گیر اقدامات کی ضرورت ہے _

