پاکستان پاکستان24

ن لیگ کامیاب، ایم کیو ایم ختم

مارچ 3, 2018

ن لیگ کامیاب، ایم کیو ایم ختم

 ایوان بالا (سینٹ) کی نصف نشستوں کی مدت مکمل ہونے کے بعد 52 سینیٹرز کو منتخب کرنے کے لیے ووٹنگ مکمل ہوگئی ہے اور ابتدائی نتائج آ رہے ہیں ۔ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نتائج کے مطابق فاٹا (قبائلی علاقوں) کی چار نشستوں پر کامیاب ہونے والے امیدوار ہدایت اللہ، شمیم آفریدی، ہلال الرحمان اور مرزا محمد آفریدی ہیں۔ فاٹا سے منتخب 11 اراکین قومی اسمبلی نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنا تھا لیکن سات نے اپنے ووٹ ڈالے ۔ تین اراکین نے فاٹا اصلاحات قانون پر اپنے تحفظات کی وجہ سے ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا ۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایم کیو ایم کا کوئی امیدوار سندھ سے منتخب نہیں ہو سکا اور یہ ایک بڑا اپ سیٹ ہے جبکہ مسلم لیگ فنکشنل نے ایک نشست پر کامیابی حاصل کی ہے ۔ سندھ اسمبلی سے آنے والے نتائج کے مطابق مہرتاج روحانی، انور لعل دین، سنجے پروانی، اور ڈاکٹر موہن منجانی کامیاب رہے ہیں۔

اسلام آباد سے سینٹ کی دو نشستوں میں سے جنرل سیٹ پر اسد علی جونیجو اور ٹیکنوکریٹ نشست پر مشاہد حسین سید نے کامیابی حاصل کی ہے، دونوں کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے ۔

بلوچستان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ابتدائی نتائج کہتے ہیں کہ 7جنرل نشستوں پر 4 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق کامیاب ہونے والے آزاد سینیٹروں میں انوار کاکڑ، کہدہ بابر، صادق سنجرانی اور احمد خان شامل ہیں جبکہ باقی تین جنرل نشستوں پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے یوسف کاکڑ، جمیعت علمائے اسلام (ف) کے مولانا فیض محمد اور نیشنل پارٹی کے محمد اکرم کامیاب قرار پائے ہیں۔

پنجاب اسمبلی پر پورے ملک کی نظریں تھیں کیونکہ یہاں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ن لیگ کے تمام امیدواروں کو آزاد قرار دیا گیا تھا ۔ سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق پنجاب کی 12 نشستوں کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ امیدواروں نے 11 نشستیں جیت لی ہیں جبکہ ایک نشست پر تحریک انصاف کے چودھری سرور کامیاب قرار پائے ہیں ۔ پنجاب اسمبلی سے کامران مائیکل، آصف کرمانی، رانا مقبول، اسحاق ڈار، حافظ عبد الکریم، مصدق ملک، سعدیہ عباسی، حالد شاہین بٹ، ہارون اختر، زبیر گل، نزہت صادق کامیاب ہوئے ہیں ۔ پنجاب اسمبلی میں 368 اراکین نے ووٹ ڈالے ۔

سینیٹ کی مجموعی 104 نشستوں میں سے 52 اراکین کی مدت مارچ میں مکمل ہو گئی تھی۔ جس کے بعد الیکشن کمیشن نے انتخابات کا شیڈول جاری کیا تھا۔ سینٹ کی 52 نشستوں کے لیے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، چاروں صوبوں اور فاٹا سے مجموعی طور پر 133 امیدوار میدان میں تھے ۔ الیکشن میں چاروں صوبوں سے 46 جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے دو اور فاٹا سے چار سینیٹرز منتخب ہوں گے ۔

سینیٹ کے الیکشن اس لیے بھی بہت اہم ہیں کہ ان انتخابات کے بعد اس ایوان میں پارٹی پوزیشن یکسر بدل جائے گی۔

 

تحریک انصاف کے فیصل جاوید خیبر پختون خوا سے سینیٹر منتخب ہو گئے ہیں جبکہ مولانا سمیع الحق کو شکست ہو گئی یے ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے