زرداری جوڑ توڑ کا بادشاہ قرار
پاکستان پیپلز پارٹی نے سینیٹ انتخابات میں سندھ کی 12 میں سے 10 نشستیں جیت لی ہیں اور اس کا سب کو پہلے سے اندازہ تھا مگر خیبر پختونخوا سے سینیٹ کی دو نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب جماعت کے سربراہ کو سیاست باز سمجھا جا رہا ہے مگر اس کو ہارس ٹریڈنگ پر تنقید کا بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی کی تعداد سات ہے، خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت تحریک انصاف اور سندھ میں متحدہ قومی موومنٹ نے پیپلز پارٹی کی اس کامیابی کو ارکان اسمبلی کی خریداری کا نتیجہ قرار دیا ہے ۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے نتائج پر کہا تھا کہ ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے پیپلز پارٹی نے خیر پختوانخوا سے دو نشستیں جتتی ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار نے سندھ میں پیپلز پارٹی پر ہارس ٹریڈنگ کا الزام عائد کیا ہے۔
حیران کے امر یہ ہے کہ عمران خان نے پنجاب میں تحریکِ انصاف کے رہنما چوہدری سرور کی کامیابی پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ۔ پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے اراکین کی تعداد 30 ہے لیکن مطلوبہ تعداد پوری نہ ہونے کے باوجود چوہدری سرور صوبے سے سینیٹ کی نشست کے لیے 44 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے ہارس ٹریڈنگ اور دوسری جماعتوں کے ارکان کے ووٹ خریدنے کے الزامات کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کہنا کہ پیپلز پارٹی نے پیسے دیے ہیں، تو یہ غلط اور بے بنیاد الزام ہے۔ فرحت اللہ بابر کے مطابق کچھ لین دین تو ہوا اور سب جماعتوں کے درمیان کچھ انڈر سیٹنڈنگ ہوئی ہے۔ جبھی ہمیں خیبر پختونخوا میں ووٹ ملے اور تحریک انصاف کو پنجاب میں اضافی ووٹ ملے۔۔
سینیٹ کے نصف ایوان یعنی 52 نشستوں کے لیے ہونے والے انتخابات کے نتائج جہاں عمومی طور پر اندازوں کے مطابق رہے لیکن اس الیکشن میں پیپلز پارٹی کی کارکردگی نے سب سے بہتر رہی ہے اور ایک زرداری کو جوڑ توڑ کا بادشاہ قرار دے کر پھر سب پر بھاری کہا جا رہا ہے ۔ تاہم ناقدین کہتے ہیں کہ یہ جمہوریت کیلئے نیک شگون نہیں ۔

