بابے کا تصور اشفاق احمد سے لیا
سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں میڈیکل کالجز میں فیسوں کے اضافے کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ بابا رحمتے ایسے ہی لگا رہتا ہے لیکن مجھے کسی کی پروا نہیں، لوگ جو مرضی تنقید کریں۔
چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بنچ نے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ بہت سارے ایشوز کو اکٹھا ٹیک اپ کیا، اب ہم ہر معاملے کو علیحدہ علیحدہ دیکھیں گے، پی ایم ڈی سی کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، ایجویکشن کاروبار ہو سکتا ہے لیکن میڈیکل کی تعلیم ایسی نہیں کہ اس پر فیسیں لگائی جائیں ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ فیسیں اتنی نہ بڑھا دی جائیں کہ لوگوں کی جیبیں ہی کاٹ لی جائیں، مجھے ڈاکٹر ندیم ظفر نے بتایا کہ ایسے ڈاکٹرز آ رہے ہیں جنہیں بلڈ پریشر چیک کرنا نہیں آتا، کل 5 بچے مر گئے، اس کا ذمہ دار کون ہے، اب ان پر انکوائری ہوگی اور ذمہ داری عائد کی جائے گی ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے لوگ کہتے ہیں کہ بابا رحمتے ایسے ہی لگا رہتا ہے، لوگ جو مرضی تنقید کریں مجھے کسی کی پرواہ نہیں ہے، بابے کا تصور کہاں سے لیا آج بتاتا ہوں، بابے کا تصور اشفاق احمد سے لیا اور بابا وہ ہے جو لوگوں کے لیے سہولتیں پیدا کرتا ہے ۔ عدالت نے میڈیکل کالجز کے اکاؤنٹس کو چارٹرڈ فرم سے آڈٹ کروانے کاحکم دیتے ہوئے کہا کہ چارٹرڈ اکاونٹٹنٹ کے تمام اخرجات میڈیکل کالجز برداشت کریں گے ۔

