مہر عبدالستار کی درخواست خارج
اوکاڑہ کے ملٹری فارمز کے زیر قبضہ زمین کی ملکیت کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے والے عبدالستار مہر کو ہائی سکیورٹی ساہیوال سے دوسری جیل منتقل کرنے کی درخواست سپریم کورٹ نے خارج کر دی ہے ۔
چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔ قیدی مہر عبدالستار کے وکیل عابد ساقی نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں اپنی جائیدادوں کو قابضین سے چھڑانے پر عبدالستار مہر کے خلاف چھتیس مقدمات دائر کیے گئے تھے جن میں سے وہ ۳۲ مقدمات میں بری ہو چکے ہیں ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے حکم دیا تھا اس پر عمل کرتے ہوئے آپ کی ملاقات کرا دی گئی تھی ۔ وکیل نے کہا کہ ملاقات ہو گئی تھی، اس کی بیڑیاں بھی اتار دی گئیں اور قید تنہائی سے بھی نکالا گیا مگر ابھی تک ہائی سیکورٹی جیل میں رکھا گیا ہے، ہائی پروفائل سکیورٹی جیل ساہیوال سے عام جیل میں منتقلی کے لیے عبدالستار نے درخواست دائر کی ہے ۔
پاکستان ۲۴ کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ متعلقہ حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ قیدی کو ہائی سکیورٹی جیل ساہیوال میں ہی رکھا جائے گا ۔ عدالت نے مہر عبدالستار کو ہائی سکیورٹی جیل ساہیوال سے عام جیل منتقل کرنے کی اپیل خارج کر دی ۔
عدالت کے باہر انجمن مزارعین اوکاڑہ سے منسلک افراد نے کہا کہ جدی پشتی زیر کاشت اراضی کی ملکیت کیلئے جدوجہد مہر عبدالستار کا واحد گناہ ہے ۔
اس سے سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ مہر ستار کی بیڑیاں اتاری جائیں ۔ جبکہ سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا نے ریمارکس دیے تھے کہ کیس کی فائل دیکھ کر تو لگتا ہے کہ یہ بندہ سوشلسٹ ہے ۔
بی بی سی کے محمد حنیف نے گزشتہ برس لکھا تھا کہ ’مہر ستار اوکاڑہ کے نواحی گاؤں میں مزارعے کا بیٹا جس کے باپ دادا 100 برس سے پنجاب حکومت کے مزارعے، اوکاڑہ چھاؤنی کے ہمسائے میں زرخیز زمین، یہ سب مزارعے دو سے دس ایکڑ تک کے کاشتکار لیکن محنتی اتنے اور زمین اتنی اچھی کہ دو ایکڑ والا بھی بچے کو یونیورسٹی میں پڑھا سکے جیسا کہ مہر ستار کے باپ نے اسے پڑھایا۔‘

