چیف جسٹس نے چودھری منیر کا نام کیوں لیا
سپریم کورٹ میں نیو اسلام آباد ایئرپورٹ میں پانی جمع ہونے پر لئے گئے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے وضاحت کی ہے کہ ائیرپورٹ سابق وزیراعظم نواز شریف کے قریبی رشتہ دار چوہدری منیر نے نہیں بنایا ۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ یہ کہا جارہا ہے کہ نیو ایئر پورٹ چوہدری منیر نے بنایا ہے، ہماری اطلاع کے مطابق چوہدری منیر نےایئرپورٹ کا رن وے بنایا ہے اور اس کے معیار پر کوئی شکایت موجود نہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ کسی پاکستانی کو بلاوجہ بدنام نہیں کرنا چاہیے ۔ عدالت نے بعد ازاں یہ آبزرویشن اپنے آرڈر کا بھی حصہ بنائی ۔
عدالت نے نیو ایئر پورٹ منصوبے کی تخمینہ لاگت پر تشویش کا اظہار کیا ۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ ائرپورٹ دو کمپنیوں چائنا اسٹیٹ اور ایف ڈبلیو او نے بنایا ۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جو بھی تھا ہمیں مطلب نہیں ۔ عدالت کے پوچھنے پر منصوبے کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ ایئر پورٹ 106 بلین روپے میں مکمل ہوا،آغاز میں منصوبے کی تخمینہ لاگت 37 بلین روپے تھی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ہماری کارکردگی ہے، منصوبے کی لاگت میں اضافے کا زمہ دار کون ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ جب ہم پوچھیں گے تو ایک دوسرے پر بات ڈال دی جائے گی، منصوبے کی لاگت سو فیصد بڑھ گئی، وہ معیار بھی نہیں ہے ۔
عدالت نے حکم نامے میں لکھوایا کہ ڈیزائنر نیو ایئر پورٹ منصوبے کے کو دیکھیں، عدالت کے لکھوایا کہ یہ بات پھیلائی گئی کہ سابق وزیراعظم کے قریبی رشتہ دار چوہدری منیر نے ایئر پورٹ بنایا، عدالت کے مطابق ایئرپورٹ کاصرف رن وے چوہدری منیر نے بنایا ہے ۔

