پاکستان پاکستان24

عدالت نے نقیب کو بے گناہ قرار دے دیا

جنوری 25, 2019

عدالت نے نقیب کو بے گناہ قرار دے دیا

کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جعلی پولیس مقابلے میں قتل ہونے والے مقتول نقیب اللہ محسود کے خلاف دائر دہشت گردی، اسلحہ و بارود رکھنے کے الزام میں دائر پانچوں مقدمات خارج کر دیے ہیں تاہم ملزم پولیس افسر راؤ انوار ضمانت پر آزاد ہیں ۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت میں نقیب کے بارے میں تفتیش کرنے والے ایس ایس پی انویسٹی گیشن عابد قائم خانی کی پانچ رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد جج نے مقدمات خارج کرنے کا حکم جاری کیا ۔ نقیب اللہ کے خلاف دائر پانچوں مقدمات کی الگ الگ تحقیقات کی گئی اور تمام الزامات کو گمراہ کن قرار دیا گیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ شاہ لطیف تھانے کے ایس ایچ او امان اللہ مروت کی سربراہی میں پولیس کو بکتر بند گاڑی میں گشت کے دوران خفیہ اداروں سے معلومات ملی کہ عثمان خاصخیلی گوٹھ میں داعش اور لشکر جھنگوی کے دہشت گردی ایک سیف ہاؤس میں موجود ہیں۔

انکوائری رپورٹ پر عدالت نے قرار دیا ہے کہ نقیب اللہ کے سوشل میڈیا پروفائل سے معلوم ہوتا ہے کہ نقیب ایک لبرل، فن سے محبت کرنے والا نوجوان تھا جو ماڈل بننے کا خواہشمند تھا۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال جنوری میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے نقیب اللہ کو تین ساتھیوں سمیت پولیس مقابلے میں مارنے کا دعویٰ کیا تھا اور اس کا تعلق شدت پسند تنظیم داعش اور لشکر جھنگوی سے ظاہر کیا تھا۔

ایس ایچ او نے حکام بالا کو آگاہ کیا اور مزید نفری طلب کی اور جس کے بعد کیے گئے مقابلے میں نقیب اللہ اپنے دو اور ساتھیوں سمیت مارا گیا۔
نقیب اللہ محسود کے قتل کیس میں سابق ایس ایس پی راؤ انوار ان دنوں ضمانت پر رہا ہیں۔

عدالت کے تحریری فیصلہ میں بتایا گیا ہے کہ ایس ایس پی عابد قائم خانی کی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ نقیب اللہ کو 4 جنوری 2018 کو دو افراد، محمد قاسم اور حضرت علی کے ہمراہ کراچی کے علاقے ابو الحسن اصفہانی روڈ پر واقع ایک ہوٹل سے اٹھایا گیا لیکن بعد میں دونوں ساتھیوں کو چھوڑ دیا گیا جنہوں نے بطور چشم دید گواہ بیان بھی قلمبند کرائے ہیں۔

عدالت کے حکم نامے کے مطابق مشتبہ مقابلے کی ایف آئی آر کے مطابق پولیس کے چند اہلکاروں کی وہاں پر موجودگی کی تصدیق ہوتی ہے جبکہ موبائل ٹیلیفون کے ریکارڈ کے تجزیے کے مطابق ایس ایس پی راؤ انوار کی بھی موجودگی کا پتہ چلتا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے