نواز کی طبی رپورٹ پر نیب سے جواب طلب
نوازشریف کو مستقل آرام چاہیئے پر مشتمل سابق وزیراعظم کی میڈیکل رپورٹس اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرا دی گئیں ۔ عدالت نے رپورٹ کی نقل فریقین کو فراہم کا حکم دیتے ہوئے نیب سے آئندہ سماعت پرجواب طلب کر لیا ہے ۔
جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سماعت کی ۔
پنجاب حکومت کے خصوصی میڈیکل بورڈ کی جانب سے نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ جمع کرائی گئی، جس میں کہا گیا ہے کہ نوازشریف کو دل کی شریانوں کامرض لاحق ہے۔۔۔بلڈ شوگر اور بلڈ چارٹ کو معمول پر رکھنا ضروری ہے۔۔۔نوازشریف کو ایسے اسپتال میں رکھا جائے جہاں 24 گھنٹے بہترین طبی سہولتیں میسر ہوں
عدالت نے خواجہ حارث سے پوچھا کیا کہ سزا معطلی کی دوسری درخواست پر سماعت کب ہوگی؟ خواجہ حارث نے بتایا کہ وہ درخواست واپس لینے کی استدعا کی ہے، اب حالات ایسے ہیں کہ عدالت طبی بنیادوں پرضمانت کی درخواست کو سنے ۔
عدالت نے قرار دیا کہ مرکزی اپیل کی سماعت 18 فروری کو ہےدونوں درخواستیں ایک ساتھ سماعت کےلیے مقرر کردیتے ہیں، خواجہ حارث نے استدعا کی کہ 18 فروری دور ہے ۔درخواست جلد سماعت کےلیے مقررکی جائے
عدالت نے فریقین کومیڈیکل رپورٹس کی کاپیاں فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے نیب سے جواب طلب کرلی، مزید سماعت 12 فروری کو ہوگی۔۔
نیب نے درخواست ضمانت کی مخالفت کا فیصلہ کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ صرف بیماری کی وجہ سے سزا یافتہ مجرم کو ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

