خودکش حملے کے سہولت کار کا مقدمہ
سپریم کورٹ نے خودکش حملے کے سہولت کار ندیم حسین کی ہائیکورٹ کے عمر قید سنانے کے فیصلے کے خلاف اپیل سماعت کے لئے منظور کر لی۔ انسداد دہشتگردی عدالت نے ملزم کو پچیس سال قید کی سزا سنائی تھی جسے ہائیکورٹ نے برقرار رکھا تھا ۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل دو رکنی بنچ نے خود کش حملہ کے مبینہ سہولت کار ندیم حسین کی ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کی ۔ ملزم کی وکیل عائشہ تسنیم نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ندیم حسین کے خلاف براہ راست شواہد نہیں ملے، ریکوری میمو بھی نہیں بنایا گیا جبکہ کیس کے اہم گواہ محمد اقبال نے بھی میرے موکل کے خلاف بات نہیں کی۔ عدالت نے ملزم ندیم حسین کی اپیل باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی ۔
ملزم ندیم حسین کو 4 مارچ 2008 کو نیوی وار کالج لاہور خود کش حملے میں سہولت کاری کے الزام پر گرفتار کیا گیا ۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم ندیم حسین کو 25 سال قید کی سزا سنائی جس کو ہائیکورٹ نے برقرار رکھا، ملزم ندیم حسین نے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے ۔

