پاکستان پاکستان24

پولیس کانسٹیبل جھوٹی گواہی پر طلب

فروری 13, 2019

پولیس کانسٹیبل جھوٹی گواہی پر طلب

سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمے میں جھوٹی گواہی دینے والے پولیس کانسٹیبل کو طلب کر لیا ہے ۔ عدالت نے کہا ہے کہ قانون کی وردی پہن کر جھوٹی گواہی دینے والا پیش ہو کر وضاحت دے کہ کیوں نہ اس کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے ۔

سپریم کورٹ نے قتل کیس میں ایک اور جھوٹی گواہی کا نوٹس لیتے جھوٹے گواہ ہیڈ کانسٹیبل تھانہ وحدت کالونی لاہور خضر حیات کو 4 مارچ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے ۔

عدالت نے ڈی آ ئی جی آپریشنز لاہور کو ہدایت کی ہے کہ کانسٹیبل خضر حیات کو 4 مارچ کے دن پیش کیا جائے ۔ پنجاب پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل خضر حیات کو محمد آصف کے قتل کے واقعہ میں جھوٹی گواہی دینے پر طلب کیا گیا ہے ۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تین رکنی بنچ کی سربراہی کرتے ہوئے نے ملزم محمد الیاس کی اپیل کی سماعت کی اور کہا کہ کیس کو جھوٹی گواہی دے کر خراب کر دیا گیا، جھوٹی گواہی دینے والوں کے خلاف کاروائی کریں گے ۔

عدالت نے 12 سال بعد ملزم محمد الیاس کو بری کرتے ہوئے لکھا کہ ہیڈ کانسٹیبل خضر حیات نے گواہی دی وہ وقوعے کا عینی شاہد ہے جبکہ ہیڈ محرر کے بیان کے مطابق کانسٹیبل خضر حیات وقوعے کے دن ڈیوٹی پر تھا ۔

عدالت نے قرار دیا کہ ہیڈ کانسٹیبل خضر حیات نے جھوٹی گواہی دی، جھوٹی گواہی دینے پر کیوں نہ ہیڈ کانسٹیبل خضر حیات کیخلاف کارروائی کریں ۔

عدالت نے حکم نامے میں لکھا کہ محمد الیاس پر 2007 میں ضلع نارروال کے علاقے میں آصف نامی شخص کو قتل کرنے کا الزام تھا ۔ ٹرائل کورٹ نے محمد الیاس کو سزائے موت سنائی تھی ۔

ہائیکورٹ نے محمد الیاس کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا ۔ سپریم کورٹ نے ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دیا ہے ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے