پاکستان

یمن تنازع میں نہیں پڑیں گے، وزیر خارجہ

فروری 13, 2019

یمن تنازع میں نہیں پڑیں گے، وزیر خارجہ

سعودی ولی عہد کے دورے سے قبل پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کو یمن تنازع میں جھونکنے کی سازش نہیں کی جا رہی ۔ گذشتہ حکومت کے دور میں پاک سعودی تعلقات سرد مہری کا شکار ہوئے ۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیروں اور مشیروں کے ہمراہ میڈیا کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورے کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا بااعتماد دوست تھا تاہم اس میں خلا آگیا تھا،پچھلی حکومت کے سعودی عرب سے ساتھ تعلقات سرد مہری کا شکار تھے، وزیراعظم کے یکے بعد دیگرے دونوں دوروں میں اس سرد مہری کو ختم کرنے میں مدد ملی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے سعودی تعاون کو شراکت داری تعاون میں بھی بدلنے کی بات کی، سعودی حکومت نے پہلے اپنی ٹیم بھیج کر ہوم ورک کیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب نے مشکل وقت میں ہمیشہ پاکستان کی کھل کر امداد کی،سعودی عرب نے پاکستان کو ادائیگیوں کے توازن کے لیے 3 ارب ڈالر کی خطیر رقم دی، اس کے علاوہ 3 سال کے لیے موخر ادائیگیوں پر تیل فراہم کیا۔ سعودی عرب پاکستانی افرادی قوت کے لئے بھی تعاون کررہا ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم کشکول سے جان چھڑانا چاہتے ہیں،وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ہم کشکول سے جان چھڑانا چاہتے ہیں، سعودی عرب کے علاوہ دیگرعرب ممالک سے بھی تجارتی شراکت داری قائم ہو رہی ہے، موجودہ حکومت جوغیر ملکی سرمایہ کاری ایک ملک سے لارہی ہے وہ پچھلی حکومت دس ملکوں سے دس سال میں لائی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کچھ اچھی چیز بھی ہوجائے تو شک کیا جاتا ہے، پاکستان میں این آر او کا چرچاہے جب کہ ملک کو یمن تنازع میں جھونکنے کی بھی بازگشت ہے، لیکن واضح طور پر بتادینا چاہتے ہیں کہ پاکستان کو یمن تنازع میں جھونکنے کی سازش و کوشش نہیں کی جارہی۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ سعودی ولی عہد کے 2 روزہ دورہ پاکستان سے پاک سعودی تعلقات نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں، اب ملک میں خوشگوارتبدیلی کاعملی مظاہرہ 16 اور17 فروری کودکھائی دے گا، ملکی تاریخ میں سعودی عرب سے اتنا بڑا وفد کبھی نہیں آیا۔ اس دوران سعودی عرب کے ساتھ کم از کم 8 معاہدوں پر دستخط ہوں گے۔ معاملات کوبہتراندازمیں چلانے کے لیے کوآرڈنیشن کونسل تشکیل دی جائے گی، سعودی ولی عہد اور وزیراعظم عمران خان کونسل کی سربراہی کریں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ روس میں افغان مذاکرات میں اچھی پیش رفت ہوئی تھی، میونخ کانفرنس میں شرکت کیلئے جمعرات کو جرمنی جارہا ہوں جہاں افغان صدر کے علاوہ روس، جرمنی، ازبکستان اور کینیڈا کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں طے ہیں۔ امریکا کے ساتھ تعلقات ری سیٹ ہوچکے ہیں، مائیک پومپیو اور زلمے خلیل زاد کے ساتھ ملاقات مفید رہی، زلمے خلیل زاد کا پاکستان کے حوالے سے بیان اطمینان بخش ہے، جرمنی میں امریکی سینیٹرز کے ساتھ ملاقات بھی ہوگی ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے