پاکستان

پالیسی معاملات کا عدالتی جائزہ لے سکتے ہیں

فروری 27, 2019

پالیسی معاملات کا عدالتی جائزہ لے سکتے ہیں

سپریم کورٹ نے غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے صنعتوں کو ترجیح بنیادوں پر فراہمی بجلی کی تجاویز طلب کی ہیں ۔ عدالت نے وفاقی حکومت، این ٹی ڈی سی اور دیگر فریقوں کو نوٹس جاری کئے ہیں ۔

جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں عدالتی بنچ کو صنعتوں کے مالکان کی تنظیم کے وکیل نے بتایا کہ حکومت مخصوص انڈسٹری کو ترجیح بنیادوں پر بجلی فراہم کرنا چاہتی ہے لیکن عدالت کا ساری صنعتوں کو مساویانہ بجلی کی فراہمی کا حکم آڑے آرہا ہے ۔

سرکاری وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ بجلی فراہمی کی ترجیحات طے کرنا پالیسی معاملہ اور حکومت کی صوابدید ہے ۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ پالیسی معاملات اور فیصلوں کا عدالتی جائزہ لیا جا سکتا ہے ۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آئین میں آرٹیکل 25 بھی موجود ہے، فیصلے پر نظر ثانی کا دروازہ کھولنے کو تیار ہیں لیکن حکومت کو کلین چٹ بھی نہیں دے سکتے، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ عدالت اپنی آنکھیں بند نہیں کر سکتی، پہلے حکومت اپنا موقف دے اور ترجیحات بتائے ۔

جسٹس عظمت سعید نے سرکاری وکیل سے کہا کہ ترجیحات قابل جواز ہوئیں تو فیصلے میں تبدیلی کر دیں گے ۔

بعد ازاں عدالت نے مقدمے کی سماعت اپریل کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے