پاکستان

ہارون محمود نیوزی لینڈ کیوں گئے؟

مارچ 16, 2019

ہارون محمود نیوزی لینڈ کیوں گئے؟

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مساجد میں حملوں کے دوران مارے جانے والوں میں راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے ہارون محمود بھی شامل ہیں ۔

ان کے خاندانی ذرائع اور دوستوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے تصدیق کی ہے کہ ہارون پی ایچ ڈی کے لیے کرائسٹ چرچ میں مقیم تھے ۔

ہارون نے پسماندگان میں بیوہ، تیرہ سالہ بیٹا اور گیارہ سالہ بیٹی چھوڑے ہیں ۔

ان کے دوستوں نے سوشل میڈیا پر ہارون کو ایک غیر معمولی شخص قرار دیا ہے ۔

چالیس سالہ ہارون کے بارے میں ان کے ایک دوست نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ

Mini profile of my friend who died yesterday in the attack. Outstanding fellow he was.
Haroon Mahmood, 40

Dr Haroon Mahmood leaves a wife and two children aged 13 and 11.

Since completing his doctorate, Mahmood had been working as assistant academic director of Canterbury College, a private school for English language and business students.

Mahmood earned master’s degrees in finance from Shaheed Zulfikar Ali Bhutto Institute of Science and Technology in Pakistan and then worked in banking in Pakistan, according to his LinkedIn profile.

He was a tutor in economics and statistics at Lincoln University from 2014-16, and the university posted on Facebook when he submitted his doctoral thesis last July on "maturity transformation risk, profitability and stability in Islamic banking”.

He also lectured in business at Linguis International in Christchurch from 2014 until April 2017, and joined Canterbury College in May 2017.

اس سے قبل پاکستانی شہری نعيم راشد اوران کے بیٹے کی مسجد میں دورانِ مزاحمت مارے جانے کی تصدیق ان کی فیملی نے کی تھی ۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق زخمی چارپاکستانیوں میں سےایک کراچی کا شہری اریب اورحافظ آباد کاامين شامل ہيں ۔

ترجمان دفترخارجہ کے مطابق اب تک نو پاکستاني لاپتہ ہيں ۔

لاپتہ پاکستانیوں ميں ذیشان رضا اور اس کےوالدین شامل ہيں ۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نےنعيم راشد اور طلحہ نعيم کو لاپتہ شہريوں ميں ظاہر کيا ہے کیونکہ تاحال نیوزی لینڈ نے موت کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی ۔

راولپنڈی کے ہارون محممود، سہیل شاہد اور جنید علی کو بھی حکام لاپتہ ہی قرار دے رہے ہیں ۔

زخمی ہونے والےچارپاکستانیوں میں سےایک کراچی کاشہری اریب ہےجوکمپنی کےکام سےنیوزی لینڈگیا تھا، 27 سالہ اریب فیڈرل بی ایریا کا رہائشی اور ایک فرم میں چارٹرڈ اکاونٹنٹ اوروالدین کا اکلوتا بیٹا ہے۔

ترجمان دفترخارجہ کےمطابق ایک زخمی محمد امین کا تعلق حافظ آباد سےہے جوبیٹےاورپوتوں سےملنےنیوزی لینڈ گئےتھے۔ امين زخمي ہيں نیوزی لینڈ میں انتہائی نگہداشت یونٹ میں زیر علاج ہیں ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے