’ٹائم از اپ‘ فوج کا پی ٹی ایم کو پیغام
پاکستان کی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک پریس کانفرنس میں قبائلی علاقوں سے اٹھنے والی پشتون تحفظ موومنٹ کو انڈین اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیوں سے مالی مدد لینے والی تنظیم قرار دیا ہے ۔
راولپنڈی میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ میں میڈیا بریفنگ کے دوران فوج کے ترجمان نے کہا کہ پی ٹی ایم والے انڈیا اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیوں را، این ڈی ایس سے فنڈنگ لے کر فوج کے خلاف جلسے کرتی ہیں ۔
انہوں نے پشتون تحفظ موومنٹ والوں کو مخاطب کر کے کہا کہ ‘آپ نے جتنی لبرٹی لینا تھی لے لی۔ ٹائم از اپ۔’
ترجمان نے سوال کیا کہ جب قبائلی علاقوں میں لوگوں کے گلے کاٹے جارہے تھے اس وقت منظور پشتین، محسن داوڑاور علی وزیر کہاں تھے؟۔
میجرجنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ جب پی ٹی ایم شروع ہوئی ان کو آرمی چیف نے کہا کہ ان کے رہنماؤں سے رابطہ کریں تو سب سے پہلے ان سے ذاتی طور پر رابطہ کیا ۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ان کو ہدایت کی کہ پی ٹی ایم والے غلط بات بھی کریں تو ان سے نرمی سے پیش آنا ہے ۔
انہوں نے وزیرستان سے پی ٹی ایم سے وابستہ منتخب ارکان قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کا نام لیے بغیر کہا کہ ‘آپ پاکستان کے ایم این اے ہیں آپ پر پاکستان کا قانون لاگو ہوتا ہے ۔ جو وہاں حکومت اور فوج کی سپورٹ میں بولتا ہے وہ مارا جاتا ہے۔ کیوں مارا جاتا ہے ۔ ‘
فوجی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان اور پی ٹی ایم والے ایک ہی بات کیوں کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم نے باہر سے فنڈنگ لے کر پاکستان کی فوج کے خلاف جلسے کیے ۔
میجرجنرل آصف غفور نے کہا کہ پی ٹی ایم والے جن نوجوانوں کو ورغلا رہے ہیں ہمیں ان کا خیال ہے ۔ ‘آپ سے نمٹنا کوئی مشکل نہیں مگر آرمی چیف نے پہلے دن پیار سے بات کرنے کے لیے کہا تھا۔’
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ فوج پشتون تحفظ موومنٹ والوں سے بات کرنا چاہتی ہے مگر یہ کبھی امریکہ بھاگ جاتے ہیں اور کبھی جرمنی چلے جاتے ہیں ۔
فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ اپنے حلقوں میں نہیں جاتے اور فوج کے خلاف نعرے لگاتے ہیں۔
انہوں نے کسی جماعت کا نام لیے بغیر کہا کہ ایک پارٹی ان کا ساتھ دے رہی ہے کہ پی ٹی ایم درست کررہی ہے۔
میجرجنرل آصف غفور نے کہا کہ کوئی غیر قانونی راستہ اختیار نہیں کیا جائے گا۔’جس آگ سے نکل کر یہ فوج کندن بنی ہے اب ہماری کھال بہت سخت ہوگئی ہے۔’
فوج کے ترجمان نے پی ٹی ایم کے افغانستان میں انڈین قونصلیٹ سے رابطوں کا ذکر کیا اور کہا کہ دبئی اور افغانستان کے راستے ہنڈی کے ذریعے بھی ان کے جلسوں کے لیے فنڈنگ ہوئی ۔

