پاکستان

اصل حکومت فوج کی ہے، فضل الرحمان

اپریل 29, 2019

اصل حکومت فوج کی ہے، فضل الرحمان

متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے فوجی ترجمان کی پریس بریفنگ پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ان باتوں کو چھیڑا جو ان کا کام نہیں ۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومتی معاملات پر فوج کے نمائندہ نے بات کی اسی لیے ہم شروع دن سے کہتے تھے اصل حکومت فوج کی ہے ۔


انہوں نے کہا کہ فیصلوں کا محور حکومت یا پارلیمنٹ نہیں، فوجی ہیڈ کوارٹر جی ایچ کیو ہے ۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کےلئے تعلیمی اداروں کے خلاف باتیں کی گئیں ۔ ”قرضے لینے کےلئے بھونڈا طریقہ اختیار کیا جارہا ہے ۔ مدارس سے متعلق غلط باتیں کی گئیں۔“

انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم سے کوئی تعلق نہیں نہ ہی ہمدردی ہے ۔

مولانا فضل الرحمن کے مطابق ”پی ٹی ایم کی لڑائی ریاست سے ہے ہم ریاست کے ساتھ ہیں۔ ریاست نے آج غلط کام کیا ہے جس کی مخالفت کی ہے ۔“

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ مدارس کو وزارت تعلیم کے ماتحت لانے کی کبھی بات نہیں ہوئی بلکہ مدارس کی رجسٹریشن وزارت تعلیم کے تحت لانے کی بات ہوئی تھی ۔

فضل الرحمان نے کہا کہ دینی مدارس کا نصاب تعلیم لانے والے آپ کون ہیں؟ ”آپ کا تو اپنا کوئی نصاب نہیں ۔ آپ تو ابھی تک میڈ ان امریکہ نصاب تعلیم پڑھا رہے ہو۔“


انہوں نے کہا کہ مدارس کی آزادی کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ پہلے مدارس کو انگریز ختم کرنا چاہتے تھے اب امریکہ چاہتا ہے ۔ مدارس کے خلاف بین الاقوامی ایجنڈا ہے ۔ ”ہماری امداد مدارس کے خلاف کاروائی سے مشروط کی جارہی ہے ۔ ایک بات بتاؤ دینی مدارس میں انتہا پسندی ہے یا نصاب میں ؟۔“

مجلس عمل کے سربراہ نے فوجی ترجمان کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ کو اپنی روش تبدیل کرنا ہوگی ۔

مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ انتہاپسندی معاشرتی مرض ہے مدارس سے اس کا کوئی تعلق نہیں، ستر سال کے جابرانہ رویہ کا ملبہ مدارس پر نہ ڈالا جائے۔ اتحاد تنظیم المدارس، وفاق المدارس حکومت سے مذاکرات نہ کریں ۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ مدارس اب مذاکرت پر اعتبار نہیں کریں گے، حکومت دھوکہ دے رہی ہے ۔ ”ناجائز اور ناپاک فیصلہ کی تکمیل کےلئے دباؤ نہ ڈالا جائے ۔ حکومت کے ساتھ مزید کوئی مذاکرات کےلئے تیار نہیں ہیں ۔“

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے