’محبت اور جنگ میں سب جائز ہے‘
پاکستان کی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ میڈیا آزاد ہے لیکن پشتون تحفظ موومنٹ سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اسمبلی کو ٹی وی پر مذاکرے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔
انہوں نے کہا کہ اینکروں اور چینل مالکان سے رابطہ ہوتا رہتا ہے تاہم کبھی کوئی بات کرنے کے لیے کہا اور نہ روکا ہے ۔
راولپنڈی میں میڈیا نمائندوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل نے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں کو ٹی وی پر آنے کی اجازت دینے کی مخالفت کی ۔ انہوں نے کہا کہ ان سے ٹی وی پر بات چیت ہوسکتی ہے مگر جو زبان استعمال کرتے ہیں ان سے ٹاک شوز میں بات نہیں کی جا سکتی ۔
انہوں نے کہا کہ ’ان ارکان قومی اسمبلی کی ٹویٹس دیکھ لیں۔ کیا کوئی ذمہ دار شخص اپنی فوج کے خلاف اس قسم کی بات کر سکتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پھر جب ہم آئین پر عمل درآمد کرائیں گے تو لوگ کہیں گے کہ سختی ہو رہی ہے ۔’پی ٹی ایم سے پوچھے گئے سوالوں کا جواب قانونی طریقے سے لیں گے میڈیا پر مذاکرہ نہیں کرائیں گے۔‘
پاکستان کی فوج کے ترجمان نے حالیہ پاکستان انڈیا کشیدگی اور جھڑپوں کے دوران میڈیا کے کردار کی تعریف کی ۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ میں بطور ڈی جی آئی ایس پی آر اپنے میڈیا کا جتنا بھی شکریہ ادا کروں کم ہے۔’میں دل کی گہرائیوں سے یہ بات کر رہا ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ مجھے میڈیا کا سب سے زیادہ شکریہ ادا کرنا ہے۔ ’اگر سنہ 1971 میں ہمارا آج کا میڈیا ہوتا تو انڈیا کی سازشوں کو بے نقاب کرتا۔ وہاں کے حالات کی رپورٹنگ کرسکتا۔ وہاں پر مقامی طور پر ہونے والی زیادتیوں کی رپورٹنگ کرتا تو آج مشرقی پاکستان علیحدگی نہ ہوا ہوتا۔‘
انہوں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ میڈیا پر شاید فوج یا ڈی جی آئی ایس پی آر ہی سارا کنٹرول کرتے ہیں ۔ ’آج تک کوئی اینکر کہہ دے کہ ان کو کسی بات کے کہنے سے منع کیا گیا ہے اور کوئی بات کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ تاہم ان سے بات ضرور ہوتی ہے ۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میری میڈیا کے تمام اینکرز سے بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ میڈیا مالکان سے بھی ہوتی ہے۔ آج کھل کے عوام کے سامنے یہ بات کرتا ہوں۔‘
ڈی جی نے کہا کہ اینکرز ہفتے کے سات دن پروگرام کرتے ہیں ’ایک دن مجھے کو بلائیں اور ایک موضوع رکھیں اور اس کے ماہر بلائیں۔‘
انہوں نے ٹاک شوز کرنے والے اینکروں سے کہا کہ عدلیہ، پولیس اور ایجوکیشن ریفارمز پر ٹاک شوز کرکے حکومت کو تجاویز دیں ۔ فاٹامیں بحالی پر شوز کرکے تجاویز دیں لیکن یہ آج تک یہ نہیں ہوا۔ ’ایک بار پھر میڈیا سے کہوں گا کہ اس کو ایک بار کر کے دیکھیں۔ پھر چھ ماہ کی بات کروں تو کہیں گے کہ مہلت دے دی ہے ۔‘
ڈی جی کا کہنا تھا کہ ٹاک شوز میں ہر شخص مسئلہ بتاتا ہے لیکن حل بتایا جائے کہ کیا ہے۔ ملک میں 43 نیوز چینلز ہیں جن پر شام سات بجے سے رات گیارہ تک ٹاک شوز ہوتے ہیں ۔ ’اس ماحول میں ہر کوئی بول سکتا ہے۔ ریڑھی والا، رکشے والا ، تانگے والا، بیوروکریٹ اور سیاست دان بھی بول سکتا ہے۔ ایک آرمی چیف جس نے اس ملک کی چالیس سال خدمت کی ہے ۔ ملک کے شہری ہیں اور ایک سسٹم کے اندر رہتے ہوئے کام کیا ہے وہ نہیں بول سکتا ۔‘
انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کا ترجمان بن کر یہاں ’بندھا ہوا‘ بولتا ہوں ۔ ’ایسا نہیں ہے جو دل میں آئے بول سکوں ۔ ان سوالوں کا جواب ہم ان (پی ٹی ایم) سے قانونی طریقے سے لیں گے ۔ جب ان کی زبان سیدھی ہوجائے گی اور جب یہ ایکسپوز ہوجائیں گے تو آپ ان کو دن رات ٹی وی پر رکھیں ۔‘
ڈی جی نے کہا کہ یاد رکھیں کہ یہ سنہ 1971 نہیں ہے۔ نہ وہ فوج ہے اور نہ وہ حالات ہیں ۔ ہمارے میڈیا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں گذشتہ 20سال اور حالیہ پاک بھارت جھڑپوں میں تین دن جو کردار ادا کیا اس سے بہتر کام نہیں ہوسکتا تھا۔ ہمارا میڈیا اسی طرح ذمہ داری سے کام کرتا رہے گا اور انڈیا کے میڈیا کے رویے میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔
صحافی حامد میرنے سوال کرتے ہوئے کہا کہ ’آج تک ہم صحافی ہی یہ بات کرتے تھے کہ سنہ 1971میں اگر میڈیا آزاد ہوتا تو مشرقی پاکستان الگ نہ ہوتا۔ ہمارے ہی بیانیے پر آج آپ نے مہر ثبت کر دی ہے اس کے لیے شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘
صحافی حامد میر نے کہا کہ ’آپ وہی بات کر رہے ہیں جو جمہوری قوتیں اور ہم سب عرصہ دراز سے کر رہے ہیں ۔ انہوں نے فوج کے ترجمان سے کہا کہ پی ٹی ایم کی قیادت سے اہم سوالات کیے ہیں ۔ پشتون تحفظ موومنٹ والے لاپتہ افراد کی بات کرتے ہیں اور وہ مسئلہ صرف خیبر پختونخوا میں نہیں ہے بلکہ بلوچستان میں بھی ہے۔ پی ٹی ایم نے سنہ 2018سے یہ بات کرنا شروع کی ہے اور بہت سے لوگ سنہ 2005سے یہ بات کرر ہے ہیں ۔ کیا یہ مناسب نہیں ہے کہ ان کو ٹی وی پر بلا کر یہ سوالات پوچھیں جائیں کہ وہ جب یہ الزام لگاتے ہیں کہ ڈی جی آئی ایس پی آر ہمیں میڈیا پر کوریج نہیں ملنے دیتے اور ہم پر بڑی پابندیاں لگائی ہوئی ہیں ۔ جو سوالات یہاں کیے گئے ہیں تو اگر یہی ہم ان کو ٹی وی پر بلا کر پوچھیں تو ان کے پاس جواب ہوگا کیونکہ جس دھرنے کا ذکر کیا گیا اور الزام لگایا گیا کہ اس کی فنڈنگ را نے کی تھی اس میں تو عمران خان بھی گئے تھے ۔‘
حامد میر نے پوچھا کہ ’نوشہرہ سیکٹر میں برگیڈ ہیڈکوارٹر پر جب پاکستان کا حملہ ہوا ۔ کیا اس وقت وہاں انڈین آرمی چیف بھی موجود تھے؟‘
فوج کے ترجمان نے صحافی حامد میر کے سوال کے جواب میں کہا کہ ’مجھے پتہ ہے کہ لاپتہ افراد کے مسئلے کے ساتھ آپ کا دلی لگاؤ ہے۔ ہمارا بھی اتنا ہی لگاؤ ہے، ہمارا دل نہیں کرتا کہ کوئی بھی شخص لاپتہ ہو۔جب جنگ ہوتی ہے تو اس میں بہت سارے کام کرنے پڑتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ وہ کہتے ہیں نا کہ جنگ اور محبت سب جائز ہے۔ جنگ بڑی بے رحم ہوتی ہے اور افواج پاکستان اس کو فرض سمجھ کر لڑتے ہیں۔ لاپتہ افرا د وہ نہیں ہیں جو یہ بتاتے ہیں ۔ ان سے فہرست لے کر دے دیں تاکہ ہم اس مسئلے کو حل کر لیں ۔ اس پر بہت کام ہو رہا ہے ۔
ڈی جی نے کہا کہ ’پی ٹی ایم کے جلسے میں جانے والوں کو تو نہیں پتہ ہوتا کہ اس کے لیے پیسے کہاں سے آئے اس لیے وزیراعظم جو اس وقت وزیراعظم نہیں تھے وہ بھی گئے ۔ آپ کو اب بھی نہیں پتہ۔ اگر پتہ ہوتا تو نہ جاتے ۔ ان کا ایجنڈا تو بہت اچھا ہے۔ یہ بات تو وزیراعظم نے بھی کہی ہے۔‘
فوجی ترجمان نے انڈیا سے کہا کہ ’اگر آپ کا دل ہے تو آزما لیں مگر اس کے بعد 27فروری کو ہماری سٹرائیک اور اپنے گرنے والے جہازوں کا حساب بھی ذہن میں رکھیں ۔‘

