پاکستان

’وزیراعظم سے ملاقات کے لیے چندہ مہم‘

مئی 1, 2019

’وزیراعظم سے ملاقات کے لیے چندہ مہم‘

ستارہ خان ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور ڈاٹ ٹی وی

پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کا وقت لینے کے لیے ’چندہ مہم‘ کا آغاز کیا ہے ۔

ملک میں سگریٹ نوشی کے خاتمے کے لیے مہم چلانے والے ایک ٹوئٹر ہینڈل ’ٹوبیکو فری پاکستان‘ سے کی گئی ایک ٹویٹ میں صارفین سے چندہ دینے کے لیے کہا گیا ہے تاکہ وزیراعظم سے ملاقات کی جا سکے ۔ ’عوام چندہ دیں تاکہ ہم بھی ملاقات کرکے وزیراعظم کو بتاسکیں سگریٹ موت ہے اس پر ٹیکس بڑھائیں اورموت بانٹنے والی تمباکو کمپنیوں کا چندہ واپس لوٹائیں۔‘

#چندہ_ہے_پر_گندا_ہے کا ہیش ٹیگ اس وقت ٹوئٹر پر سامنے آیا جب برطانوی سگریٹ ساز کمپنی کے مالک نے ایک وفد کے ہمراہ پاکستانی وزیراعظم سے ملاقات کر کے ان کو ڈیم کے لیے 50 لاکھ روپے کا عطیہ دیا ۔‘

ٹوبیکو فری پاکستان کی ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ’موت بانٹنے والوں نے 50 لاکھ چندہ دے کر وزیراعظم تک اپنا پیغام پہنچا دیا مگر زندگیاں بچانے کے خواہاں بغیر بھاری رقم کے وہاں تک کیسے پہنچیں۔‘

منگل کو پاکستان کے وزیراعظم سے سگریٹ ساز ادارے کے علاقائی ڈائریکٹر نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی تھی جس کی ویڈیو اور تصاویر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر تمباکو نوشی کے مضر اثرات کی آگاہی مہم چلانے والے صارفین نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا ۔

سگریٹ کے مضر اثرات سے بچوں کو دور رکھنے والی امریکی مہم ’ٹوبیکو فری کڈز‘ کے پاکستان میں ڈائریکٹر ملک عمران نے پاکستان ٹوئنٹی فور سے گفتگو کرتے وزیراعظم عمران خان کی سگریٹ ساز کمپنی کے وفد سے ملاقات کے بارے میں کہا کہ بجٹ سے ایک ماہ قبل اس طرح کے ’امدادی چیک‘ سے سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے کا عمل متاثر ہو سکتا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے عالمی ادارہ صحت کے ’ٹوبیکو کنٹرول کنونشن‘ پر دستخط کر رکھا ہے جس کے تحت حکومتی نمائندے سگریٹ ساز کمپنیوں کے ڈائریکٹرز سے ملاقات کر سکتے ہیں اور نہ ہی ان سے کسی قسم کا فنڈ وصول کیا جا سکتا ہے ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس میں وزیراعظم کا اپنا کوئی قصور نہیں ان کے مشیر نے اس بارے میں آگاہ نہیں کیا ہوگا ۔

’یہ ملاقات عالمی کنونشن کی خلاف ورزی تو ہے لیکن اس کی ذمہ داری حکومتی مشیروں پر عائد ہوتی ہے۔‘

صحافی سمیرا راجپوت نے وزیراعظم سے ملاقات کے لیے شروع کی گئی چندہ مہم کی اپیل پر #sintax#چندہ_ہے_پر_گندا_ہے کے ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’اب ہمیں وزیراعظم ہاؤس کی دیواریں ہلانے کے لیے چندے کی ضرورت ہے جیسا کہ سگریٹ ساز کمپنیوں نے کیا ۔‘

احسن ریاض نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا ہے کہ ادویات سمیت ہر شے مہنگی ہو رہی ہے مگر سگریٹ سستے ہو رہے ہیں ۔ ان کے مطابق ایسا صرف پاکستان میں ممکن ہے ۔ ’برطانیہ میں سگریٹ کا ایک پیکٹ نو پاؤنڈ جبکہ آسٹریلیا میں 30 ڈالر کا ملتا ہے۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے