خادم رضوی کی پانچ لاکھ میں ضمانت
Reading Time: < 1 minuteپاکستان کی لاہور ہائی کورٹ نے فیض آباد دھرنے سے شہرت پانے والے بریلوی مسلک کے رہنما خادم حسین رضوی اوران کے ساتھی پیر افضل قادری کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے ۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس قاسم علی خان اور جسٹس اسجد جاوید گھرال پر مشتمل ڈویژن بنچ نے یہ خادم رضوی اور افضل قادری کی ضمانت کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنایا۔
لاہور ہائی کورٹ نے دلائل مکمل ہونے پر 10 مئی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ عدالت نے ضمانت پر رہائی کا حکم دیتے ہوئے خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کو پانچ پانچ لاکھ کے مچلکے جمع کرانے کی بھی ہدایت کی ہے ۔
یاد رہے کہ دونوں مسلکی رہنماؤں کو مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی توہین مذہب کے مقدمے میں رہائی کے بعد ملک بھر میں مظاہرے کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا ۔
خیال رہے کہ گذشتہ برس کیے جانے والے ان مظاہروں کے دوران پیر افضل قادری نے سپریم کورٹ کے ججوں اور ملک کی فوج کے سربراہ کو قتل کرنے کی بات بھی کی تھی ۔
پیر افضل قادری نے اپنے ایک تحریری بیان میں ججوں اور آرمی چیف سے معافی مانگی ہے ۔ اس معافی کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ہے ۔