ای کورٹ، ٹیکنالوجی کی دنیا میں بڑا قدم ہے
نیلم ارشد ۔ صحافی
پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ای کورٹس سسٹم کا آغاز کیا گیا ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ای کورٹ نظام کے تحت ویڈیو لنک کے ذریعے کراچی میں موجود وکلا کے مختلف مقدمات میں دلائل سنے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں یہ ایک بڑا قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ای کورٹ سے کم خرچ میں فوری انصاف ممکن ہو سکے گا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ دنیا بھر میں پاکستان کی سپریم کورٹ میں ہی ای کورٹ سسٹم کا پہلی مرتبہ آغاز ہوا ہے۔ ای کورٹ سے سائلین پر مالی بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔
چیف جسٹس نے آئی ٹی کمیٹی کے ممبران جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مشیر عالم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے نادرا کے چئیرمین اور ڈی جی کی کاوشوں کو بھی سراہا۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے چیف جسٹس کو ویڈیو لنک سسٹم پر مبارکباد دی تو چیف جسٹس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آج بہت بڑا دن ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وکلاء کا تعاون مطلوب ہے۔ آج پہلے ہی روز ای کورٹس سے سائلین کے پچیس لاکھ روپے بچ گئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی سے وکلاء اسلام آباد آتے تو فائیو سٹار ہوٹل میں ٹھہرتے۔ وکلاء اور سائلین کے ٹرانسپورٹ پر اخراجات آتے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ سستا اور معیاری انصاف ہماری آئینی ذمہ داری ہے۔ روز سوچتے ہیں سائلین کو انصاف دینےکے لیے کیا کر سکتے ہیں۔

