منصوبوں کی بروقت تکمیل نہ ہونے سے سات ارب کا نقصان
اسلام آباد(قاسم نواز عباسی)
وفاقی حکومت کی جانب سے اعلیٰ تعلیمی شعبے میں بہتری، نئے تعلیمی اداروں کی تعمیر اور بیرونی ملکوں میں سکالرشپس کے لئے 7 ارب43 کروڑ 51 لاکھ روپے سے زائد لاگت کے 11منصوبوں پر بروقت فنڈز فراہم نہ ہونے کی وجہ سے ان منصوبوں کی لاگت میں 6 ارب 99 کروڑ 97 لاکھ روپے سے زائد اضافے کے بعد ان منصوبوں کی لاگت 14 ارب 34 کروڑ 67 لاکھ روپے سے زاہد ہو گئی ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے ہائرایجوکیشن کمیشن(ایچ ای سی) کے زیر انتظام تربت یونیورسٹی کے قیام کے لئے اصل تخمینہ 1 ارب 58 کروڑ روپے مختص کیا گیا تھا تاہم منصوبہ التواء کا شکار رہا جسکی وجہ سے اس منصوبے کے لاگت میں 1 ارب 24 کروڑ روپے اضافہ کے بعد منصوبہ کی کل لاگت بڑھ کر اب 2 ارب82 کروڑ روپے سے زائد ہو گئی ہے جبکہ ناروال میں لاہور یونیورسٹی آف انجینرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کےکیمپس کے قیام کے لئے تقریبا 94 کروڑ روپے کا اصل تخمینہ مختص کیا گیا تھا تاہم منصوبہ التواء کا شکار ہونے کے باعث اس منصوبے کی لاگت میں 1 ارب 93 کروڑ 85 لاکھ روپے کے اضافہ کے بعد منصوبہ کی کل لاگت بڑھ کر 2 ارب 87 کروڑ 85 لاکھ روپے ہو گئی ہے۔
اسی طرح بلوچتسان میں زرعی یونیورسٹی کی تعمیر و ترقی کے لئے اصل تخمینہ 97 کروڑ 74 لاکھ روپے مختص کیا گیا تھا تاہم فنڈز کی بروقت فراہمی نہ ہونے کے باعث اس منصوبے کی لاگت میں 47 کروڑ 38 لاکھ روپے اضافہ ہوا ہے جسکے بعد اس منصوبے کی کل لاگت بڑھ کر 1 ارب 44 کروڑ 86 لاکھ روپے ہو چکی ہے۔
جانوروں کے علاج اور ریسرچ کے لئے قائم شدہ یونیورسٹی آف ویٹرینی اینڈ انیمل راوی کیمپس پٹوکی میں ریسرچ کے کام کو بڑھانے کے لئے اصل تخمینہ 81 کروڑ 13 لاکھ روپے لگایا گیا تھا تاہم کام میں تاخیر کے باعث اس منصوبے کی لاگت میں 1 ارب 69 کروڑ 88 لاکھ روپے اضافہ ہو چکا ہے جسکے بعد اب اس منصوبے کی کل لاگت بڑھ کر 2 ارب 51 کروڑ 12 لاکھ روپے ہو گئی ہے ۔
ایچ ای سی کے زیر انتظام نواب شاہ میں نرسنگ کالج کے قیام کے لئے منصوبہ کا اصل تخمینہ تقریبا 48 کروڑ 83 لاکھ روپے مختص کیا گیا تھا لیکن بروقت فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث اس منصوبے کی لاگت میں 11 کروڑ روپے اضافہ ہوا ہے جس کے بعد اس منصوبے کی کل لاگت بڑھ کر 60 کروڑ 30 لاکھ روپے ہو گئی ہے۔
سرکاری یونیورسٹیوں میں سیرت چیئرز کے قیام کے لئے اصل تخمینہ 18 کروڑ 99 لاکھ روپے لگایا گیا تھا تاہم فنڈز کی بروقت فراہمی نہ ہونے سے اس منصوبے کی لاگت میں 22 کروڑ روپے اضافہ ہوا ہے جس کے بعد اب اس منصوبے کی لاگت 41 کروڑ روپے سے زائد ہوگئی ہے۔
اسی طرح ایچ ای سی کی جانب سے اوکاڑہ میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے سب کیمپس کے قیام کے لئے اصل تخمینہ 47 کروڑ 54 لاکھ روپے مختص کیا گیا تھا تاہم منصوبہ تاخیر کا شکار ہونے سے اس منصوبہ کی لاگت میں 41 کروڑ 13 لاکھ روپے اضافہ ہوا ہے جس کے بعد اس منصوبے کی کل لاگت 88 کروڑ 92 لاکھ روپے سے زائد ہو چکی ہے۔
ایچ ای سی کی جانب سے پی آئی ای اے ایس یونیورسٹی اسلام آباد کی بہتری کے لئے کل تخمینہ 50 کروڑ روپے لگایا گیا تھا تاہم تاخیر کا شکار ہونے سے اس منصوبے کی لاگت میں 19 کروڑ 26 لاکھ روپے اضافہ ہوا ہے جسکے بعد اس منصوبے کی کل لاگت 69 کروڑ 70 لاکھ روپے ہو گئی ہے جبکہ یونیورسٹی آف پشاور کی بہتری کے لئے اصل تخمینہ 60 کروڑ روپے مختص کیا گیا تھا جو کہ فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث اس منصوبے کی لاگت 14 کروڑ 30 لاکھ روپے اضافے کے بعد 74 کروڑ 80 لاکھ روپے ہو گئی ہے۔اسی طرح ایچ ای سی کی جانب سے زراعت اور بزنس پڑھنے والے پاکستانی طالب علموں کے لئے یو ایس نیڈ بیسڈ اسکالرشپس کے منصوبہ کا اصل تخمینہ 42 کروڑ 16 لاکھ روپے لگایا گیا تھا تاہم منصوبہ تاخیر کا شکار ہونے کے باعث اس کی لاگت میں 56 کروڑ 38 لاکھ روپے اضاف ہو چکا ہے، اب اس منصوبے کی لاگت بڑھ کر 98 کروڑ 55 لاکھ روپے ہو چکی ہے جبکہ شعبہ تعلیم اور ریسرچ کے کام کی بہتری کے لئے بیرونیں ممالک یونیورسٹیز کےساتھ مل کر کام کرنے کے لئے اصل تخمینہ34 کروڑ روپے مختص کیا گیا تھا تاہم منصوبہ التواءکا شکار رہا اب اس منصوبہ کی لاگت میں 1 کروڑ 35 لاکھ روپے اضافہ ہوا ہے، اب اس منصوبے کی کل لاگت بڑھ کر 35کروڑ 38 لاکھ روپے ہو گئی ہے۔

