پاکستان

ریفرنس پر سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس طلب

مئی 30, 2019

ریفرنس پر سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس طلب

پاکستان میں اعلی عدلیہ کے ججوں کا احتساب کرنے والے فورم سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس دو ہفتے بعد طلب کیا گیا ہے۔

پاکستان ٹوئنٹی فور کے ذرائع کا دعوی ہے کہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ اورجسٹس کےکےآغا کےخلاف ریفرنسز پر سپریم جوڈیشل کونسل نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیا ہے ۔

14 جون کو کی جانے والی سماعت میں اٹارنی جنرل بطور پراسیکیوٹر پیش ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق صدر مملکت نے دونوں ججز کے خلاف ریفرنس 2 دن پہلے بھجوایا تھا۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ریفرنس میں ججز پر اثاثے چھپانے کا الزام لگایا گیا ہے۔

ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اعلی عدلیہ کے ججوں کے خلاف مس کنڈکٹ اور دیگر الزامات کے تحت کارروائی کے مجاز فورم سپریم جوڈیشل کونسل نے حکومت کی جانب سے بھیجے گئے صدارتی ریفرنس پر جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس کے کے آغا کو اپنا جواب جمع کرانے کے لیے نوٹس جاری کیے ہیں۔

سپریم جوڈیشل کونسل میں کسی بھی جج کے خلاف صدارتی ریفرنس پر قانون کے مطابق اٹارنی جنرل بطور پراسیکیوٹر یا استغاثہ پیش ہوتے ہیں۔

ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ صدر مملکت نے دونوں ججز کے خلاف ریفرنس دو دن پہلے بھجوایا تھا جس میں ججز پر درست اثاثے ظاہر نہ کا الزام ہے۔
ریفرنس آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کے لیے دائر کیا گیا ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل پانچ ججز پر مشتمل ہے جس کی صدارت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کرتے ہیں جبکہ ان کے ساتھ عدالت عظمی دو سینئر ججز اور دو ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان شامل ہوتے ہیں۔


سپریم جوڈیشل کونسل ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر دائر کسی بھی ریفرنس پر کارروائی مکمل کرکے اپنی رائے دینے کا اختیار رکھتی ہے تاہم قانون کے مطابق صدر مملکت اس رائے پر عمل کرنے کے پابند نہیں۔
سپریم جوڈیشل کونسل نے ایک ریفرنس پر ۱۱ اکتوبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی کو ہٹانے کی رائے دی تھی۔

ادھر حکومت نے بھی ججوں کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کی تصدیق کی ہے۔ مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ سب کا بلا تفریق احتساب ہوگا چاہے کوئی بھی ہو۔ ”اب وقت آگیا کہ تمام اداروں میں بیٹھے افراد کو قانون کی پاسداری کرنا ہوگی۔“

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے