قرضہ کمیشن کیسے کام کرے گا
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے سابق حکومتوں کے دور میں لیے گئے قرضوں کی تحقیقات کے لیے اپنے اعلان کردہ کمیشن کی تشکیل کر دی ہے۔ کمیشن مقامی یا بین الاقوامی آڈٹ فرموں کے زریعے فروری 2008 سے ستمبر 2018 تک کے تمام حکومتی خرچوں کا فارنسک آڈٹ کرائے گا۔
کمیشن قرضے لینے سے جڑے معاملات میں ذمہ داری کا تعین کرے گا اور کسی قسم کی بے قاعدگی کو تحقیق اور عدالتی کاروائی کے لیے متعلقہ محکمے اور ایجنسی کو بھیجنا بھی کمیشن کی زمہ داریوں میں شامل ہو گا۔
نوٹی فیکیشن کے مطابق کمیشن کی سربراہی سابق ریٹائرڈ بیورو کریٹ اور نیب کے نائب چیئرمین حسین اصغر کریں گے۔
گزشتہ دو حکومتوں کے دور میں لیے گئے قرضوں کی تحقیقات کے لیے گیارہ رکنی کمیشن کے نوٹیفیکیشن کے مطابق اس میں نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر اور دیگر سول اداروں کے ساتھ ملٹری انٹیلیجنس اور آئی ایس آئی کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔
کمیشن چھ ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرنے کے علاوہ ہر ماہ ایک عبوری رپورٹ بھی بنائے گا۔ اس کے لیے قومی خزانے سے مناسب بجٹ بھی کمیشن کو مہیا کیا جائے گا۔
کمیشن صرف فروری 2008 سے ستمبر 2018 تک کی دو سول حکومتوں کے اخراجات کا فرانزک آڈٹ کرے گا جبکہ اس سے قبل فوجی حکمران جنرل مشرف دور کے اخراجات کے حوالے سے تحقیقات کمیشن کے دائرہ کار میں نہیں۔
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کہہ چکے ہیں کہ اپوزیشن میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی اورپاکستان مسلم لیگ نواز کے گزشتہ دو ادوار میں ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے دبایا گیا۔
قرضہ کمیشن کے آٹھ ٹی او آرز یا ضابطہ کار آٹھ ہیں۔1کمیشن گزشتہ دس سالوں میں اہم ترقیاتی منصوبوں کی اہمیت کا جائزہ لے گا اور ان کا تقابل سرکاری قرضوں میں اضافے سے کرے گا۔ دستاویز کے مطابق سن 2008 میں پاکستان کا سرکاری قرضہ چھ ہزار چھ سو 90 ارب تھا جو کہ ستمبر 2018 میں بڑھ کر تیس ہزار آٹھ سو 46 ارب ہو گیا۔
2کمیشن ہرسرکاری منصوبے کا جائزہ لے کر تحقیق کرے گا کہ اس کے لیے جو قرض لیا گیا کیا اسی پر خرچ ہوا۔
کمیشن جائزہ لے گا کہ کیا کسی سرکاری منصوبے کے شرائط و ضوابط میں ایسی ہیر پھیر تو نہیں کی گئی کہ کمیشن یا کک بیک حاصل ہو سکے۔
کمیشن یہ بھی تحقیق کرے گا کہ کسی عہدیدار یا اس کے اہل خانہ یا تعلق داروں نے سرکاری پیسے سے غیر قانونی ذاتی اخراجات تو ادا نہیں کیے؟
ٹی او آرز کے مطابق کمیشن دیکھے گا کہ مالیاتی زمہ داری اور قرضوں کی حد کے 2005 کے قانون میں مقرر کی گئی حد کو توڑا تو نہیں گیا؟ اور اگر ایسا ہوا تو اس کی وجوہات کیا تھیں؟
کیا 2005 کے اس قانون میں کی گئی ترامیم آئین کی شق 166سے متصادم تو نہیں؟

