پاکستان

کرپشن پر عدالتی رویہ سخت ہے

جون 28, 2019

کرپشن پر عدالتی رویہ سخت ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف کھوسہ نے کہا ہے کہ عدالتیں اب کرپشن کے مقدمات پر سخت رویہ رکھتی ہیں۔

عدالت عظمی نے سرکاری زمین جعلی اجازت نامے کے ذریعے افراد کے نام الاٹ کرنے کے مجرمان کی سزا کے خلاف اپیلیں مسترد کر دیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس قسم کے جرم میں 5 سال سزا کم ہے کیوں نہ مجرمان کی سزا بڑھانے کے نوٹسسز جاری کئے جائیں۔

چیف جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بینچ نے اپیلوں کی سماعت کی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ مختار کار خادم حسین اور مشتاق علی نے ملیر کی سرکاری زمین نجی شخص کو الاٹ کرنے کا جعلی این او سی جاری کیا تھا۔

احتساب عدالت نے پانچ سال کی سزا سنائی جو ہائیکورٹ نے برقرار رکھی۔

چیف جسٹس نے پوچھا کیا کہ مختار کار سرکاری زمین کے نگہبان تھے؟ زمین کے محافظوں نے 21 ایکڑ زمین کسی کو دے دی، اس قسم کے جرم میں پانچ سال سزا کم ہے، اتنی سزا تو کسی کو ڈنڈا یا پتھر مارنے پر سنا دی جاتی ہے۔

نیب کے وکیل نے بتایا کہ زمین کی الاٹمنٹ سے 43 کروڑ کا نقصان ہوا۔ ملزم کے وکیل نے کہا کہ الاٹ زمین واپس ہو گئی، اپیلیں واپس لے لیتے ہیں عدالت سزا کم کر دے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ چور پکڑے جانے پر رقم واپس کر دے تو کیا جرم ختم ہو جاتا ہے۔ خادم حسین نے عہدہ سنبھالنے کے پانچ دنوں میں یہ کارنامہ سر انجام دے دیا۔ کیوں نہ مجرمان کو سزائیں بڑھانے کا نوٹس دیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آج کل کرپشن کے خلاف عدالتوں کا رویہ بڑا سخت ہے، کسی دور میں منشیات، دہشت گردی کے مقدمات میں عدالتوں کا رویہ بڑا سخت ہوتا تھا۔ سرکاری اداروں میں کرپشن کیسز پر عدلیہ کا اب رویہ ایسا ہی رہے گا۔

سپریم کورٹ نے مجرمان کی اپیلیں مسترد کر دیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے