پاکستان

کیا انڈیا پر حملہ کر دوں؟ خان

اگست 7, 2019

کیا انڈیا پر حملہ کر دوں؟ خان

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انڈیا نے کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کر کے دو قومی نظریے کو درست ثابت کر دیا ہے۔ ہم پاس دو راستے ہیں مگر ٹیپو سلطان والا راستہ چنیں گے۔

انہوں نے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی جانب سے سخت تنقید پر کہا کہ ”آپ کیا چاہتے ہیں، کیا انڈیا پر حملہ کردوں؟“

وزیراعظم نے کہا کہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنےکے اثرات دو ملکوں پر ہی نہیں پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ ’ہم اس کے خلاف اقوام متحدہ دوسرے عالمی فورمز پر اس معاملے کو لے کر جائیں گے۔‘

منگل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کہ پہلے بھی انڈیا نے حملے کی کوشش کی تھی جس کا ہم نے بھرپور جواب دیا۔ 

’اگر آگے بھی کبھی ایسا ہوا تو پھر یہی کچھ ہو گا اور اگر بات روایتی جنگ کی طرف گئی تو ہمارے سامنے دو راستے ہوں ایک بہادر شاہ ظفر والا اور دوسرا ٹیپو سلطان والا، اور ہم دوسرے راستے کا چنائو کریں گے اور خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے۔‘

اس سے قبل جب عمران خان تقریر کے لیے کھڑے ہوئے تو اپوزیشن بنچوں کی طرف احتجاج ہوا اور شور شرابہ شروع ہو گیا جس پر عمران خان نے کہا ’اگر اسی طرح شور رہا تو پھر میں بیٹھ جاتا ہوں‘ جس پر اپوزیشن بنچوں کی جانب سے یہ آواز بھی لگائی کہ ’بیٹھ جائیں‘

شور شرابہ بند نہ ہونے پر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کھڑئے اور اراکین کو خاموش ہونے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کو تقریر کرنے دیں، اسے سننے کے بعد ہم جواب دیں گے‘

اس کے بعد عمران خان نے دوبارہ تقریر شروع کی۔

انہوں نے کہا کہ اول دن سے ہی غربت کا خاتمہ اولین ترجیح تھی اس لیے تمام پڑوسیوں سے تعلقات اچھے کرنے کی کوشش کی اور تمام ہمسایہ ممالک کے دورے کیے لیکن بشکیک میں احساس ہوا کہ انڈیا اس کو ہماری کمزوری سمجھ رہا ہے۔

’انڈیا میں انتخابات کے پیش نظر پاکستان مخالف کارڈ استعمال کیا گیا اور جنگی صورت حال پیدا کی گئی جس کا بھرپور جواب دیا گیا اور اس کے باوجود ہم نے خیرسگالی کے جذبہ کے تحت انڈین پائلٹ کو رہا کیا۔‘

عمران خان نے کہا کہ انڈیا جس قدر کشمیریوں کو دبائے گا اسی قدر مزاحمت بڑھے گی، کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کیے جانے سے آزادی کی تحریک مزید زور پکڑے گی اور پلوامہ جیسے واقعات ہوں گے جس کے بارے میں میں ابھی سے پیشن گوئی کر دیتا ہوں کہ انڈیا اس کا الزام پھر سے ہم پر اوپر لگائے گا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے