کیا عدالتیں اور پارلیمنٹ آزاد ہے؟
پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین امجد شاہ نے کہا ہے کہ ملک میں ہر طرف گھٹن ہے اور حکومتی و دیگر ادارے ہر طرح کی اختلافی آواز کو دبانے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہے ہیں۔ سیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت کے الزامات ادارہ کی ساکھ اور غیرجانبداری کو بری طرح متاثر کرتے ہیں اور ملک موجودہ حالات میں اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
سپریم کورٹ میں جسٹس عظمت سعید کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر عدالت کے سولہ ججوں کے سامنے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امجد شاہ نے سوال اٹھایا کہ کیا اداروں کو اختیارات سے تجاوز کی اجازت ہونی چاہیے؟ کیا عدالتیں اور پارلیمان آزادی سے اپنا کام کر رہی ہیں؟
ان کا کہنا تھا کہ وکلاء برادری سنگین حالات میں افواج پاکستان کیساتھ کھڑی ہے لیکن سیاسی معاملات میں مداخلت ادارے کی ساکھ کو متاثر کرتی ہے۔

امجد شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ ہر ادارے کو آئینی حدود میں رہنے کا پابند بنائے۔ بنیادی حقوق سے محروم کرنے کیلئے لوگوں کو جھوٹے مقدمات میں الجھایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ”ازخودنوٹس کے اختیار کے قواعد و ضوابط طے کیے جائیں۔ ججز کے خلاف ریفرنس کی باری سے پہلے سماعت پر تحفظات ہیں۔ توقع ہے جسٹس فائز عیسی کے ریفرنس کیخلاف درخواستوں پر فل کورٹ سماعت کرے گا۔“

