’جسٹس فائز کی برطانیہ میں جاسوسی کرائی گئی‘
سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کیخلاف جسٹس قاضی فائز عیسی کی درخواست پر سماعت جاری ہے جہاں ان کے وکیل منیر اے ملک نے انکشاف کیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اہل خانہ کی جائیدادوں کی تفصیل حاصل کرنے کے لیے برطانیہ میں پرائیویٹ سکیورٹی ایجنسی کی خدمات حاصل کی گئیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ سماعت کر رہا ہے۔
وکیل نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کو ٹیکس ریٹرنز فائل نہ کرنے پر ایف بی آر نے تین نوٹس جاری کیے۔
منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ ٹیکس ریٹرنز ادا نہ کرنے کے تینوں نوٹسز اس گھر کے پتہ پر بھیجے گئے جو 1997 میں جسٹس قاضی فائز نے بیچ دیا گیا تھا۔
جسٹس منصور شاہ نے کہا کہ پرانے پتہ پر نوٹس دینا حیران کن ہے۔
وکیل نے بتایا کہ بیرون ملک پراپرٹی جن افراد کی ملکیت ہے انھیں نوٹس نہیں دیا گیا، سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسی انکی اہلیہ اور بچوں کی سفری تفصیلات پوچھی تھیں، سفری تفصیلات وفاقی حکومت کی طرف سے جمع کرائے گئے دستاویزات میں موجود ہیں۔
وکیل منیر اے ملک نے بتایا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے 20 دسمبر سے 29 دسمبر 2018 تک بیرون ملک سفر کیا جبکہ ان کی بیٹی نے 26 مارچ 2007 سے لیکر 29 دسمبر 2018 تک سفر کیا،
وکیل کا کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کا بیٹا آخری مرتبہ 11 جنوری 2019 کو پاکستان سے یو کے گیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ حکومت نے ملک سے جانے اور ملک میں آمد کی تفصیل دی ہے۔
وکیل نے بتایا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، ان کی اہلیہ اور بیوی بچوں کی جاسوسی کی جاتی رہی۔ جاسوسی کس طرز پہ کی گئی یہ الگ بات ہے، کیا جج اور ان کی فیملی کے فون ٹیپ ہوتے رہے۔ کیا جج اور ان کے اہل خانہ کے ای میل ہیک کیے گئے؟
منیر اے ملک نے سوال اٹھایا کہ کیا پروٹوکول افسر کے زریعے جاسوسی کی گئی، اپنے موکل کی ہدایت پر یہ بات کہہ رہا ہوں۔
منیر اے ملک نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی سربمہر لفافے میں بیان خلفی دینے کو تیار ہیں۔ ’وہ بیان خلفی میں بتائیں گے کیسے ان کی اور بیوی بچوں کی جاسوسی کی جاتی رہی۔ جسٹس قاضی فائز بیان خلفی میں حقائق، حادثات کا ذکر کریں گے جن میں ان کی اور بیوی بچوں کی جاسوسی کی جاتی رہی۔‘
جسٹس منیب اختر نے وکیل سے کہا کہ آپ عدالتی کارروائی سے باہر نہ جائیں۔
اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور خان نے جسٹس قاضی فائز کے وکیل کی جانب سے بیان حلفی جمع کرانے کی بات پر اعتراض کیا اور کہا کہ آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت زیرسماعت مقدمے میں شواہد پیش نہیں کیے جاسکتے۔
بینچ کے سربراہ نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب، بدنیتی کو ظاہر کرنے کیلئے وکیل صاحب نے یہ بات کہی گئی ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جاسوسی کو ثابت کرنے کا فورم الگ ہے۔
وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ میرا سوال یہ ہے شکایت کنندہ ڈوگر کو جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ اور بچوں کی پراپرٹی کا پتہ کیسے ملا؟ ڈوگر کبھی لندن نہیں گیا۔ جسٹس منیب نے پوچھا کہ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں ڈوگر کیلئے یہ ناممکن تھا کہ پتہ معلوم کرے، آپ پیش آنے والے حادثات اور واقعات سے جاسوسی کا نتیجہ اخذ کررہے ہیں اور بدنیتی ظاہر کرنے کیلئے یہ دلیل دے رہے ہیں۔
وکیل نے کہا کہ وفاقی حکومت نے خود یہ وضاحت نہیں دی انھیں لندن جائیدادوں کی تفصیل کیسے ملی۔
منیر اے ملک نے خود ہی جواب دیتے ہوئے بتایا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے اہل خانہ کی جائیدادوں کی تفصیل حاصل کرنے کیلئے برطانوی پرائیویٹ سیکورٹی ایجنسی کی خدمات حاصل کی گئیں۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ عدالت ان معاملات کو ہلکا نہیں لے گی۔
وکیل منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ صدارتی ریفرنس دائر ہونے کے بعد بھی ایسٹ ریکوری یونٹ جسٹس قاضی فائز کیخلاف تحقیقات کرتا رہا۔
کیس کی سماعت جاری

