پرویز مشرف کیس میں پھر سپریم کورٹ سے رجوع
پاکستان کی سپریم کورٹ میں دائر ایک درخواست میں کہا گیا ہے کہ وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے پرویز مشرف سنگین غداری کیس ٹرائل کو طول دینے کے لیے مختلف حربے آزمائے ہیں۔
رپورٹ: جہانزیب عباسی
خصوصی عدالت کو مشرف غداری کیس کا فیصلہ سنانے سے روکنے کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ درخواست ایڈووکیٹ توفیق آصف نے دائر کی.
درخواست میں وفاق، وزارتِ داخلہ،مشرف اور خصوصی عدالت کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مشرف غداری کیس کی شکایت وزارت داخلہ کی طرف سے بھیجی گئی تھی، وزارت داخلہ کے سربراہ (موجودہ وزیر داخلہ) مشرف کے قریبی ساتھی رہ چکے ہیں۔ وزیر داخلہ مشرف غداری کیس ٹرائل کی طوالت کے لیے مختلف حربے آزما رہے ہیں۔ درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔
واضح رہے مشرف کی سابقہ لیگل ٹیم کے ایک وکیل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور اس وقت اٹارنی جنرل جبکہ دوسرے ایڈووکیٹ فروغ نسیم وزیر قانون ہیں۔
مشرف کی کابینہ میں شامل کئی اراکین حالیہ حکومت وقت کا بھی حصہ ہیں۔

