پاکستان میں وکیلوں کی ملک گیر ہڑتال
لاہور میں عدالت نے ہسپتال میں توڑ پھوڑ کرنے والے 52 وکلا کو جیل بھیج دیا ہے جبکہ وکلا تنظیمیں جمعے کو ہڑتال کر رہی ہیں۔
پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین امجد شاہ کی جانب سے جاری کیے بیان میں کہا گیا ہے کہ لاہور میں پولیس نے ایسے وکلا کو بھی گرفتار کیا ہے جن کا ہسپتال واقعہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
ادھر وزیراعظم عمران خان کے بھانجے وکیل حسان نیازی کی پولیس موبائل کو توڑنے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد بھی ان کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔
وزیراعظم پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ دیگر ملزمان کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔
وزیراعلی پنجاب نے عدالتی حکم کے تحت جیل بھیجے گئے وکیلوں کو شرپسند لکھا ہے تاہم ان کی تعداد اور ریمانڈ کے بارے میں ٹویٹ پر درست معلومات شیئر نہیں کیں۔


