وزیراعظم نے بنی گالہ اجلاس میں کیا طے کیا؟
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے بیرونی دورے سے وطن واپس پہنچنے کے بعد اپنی جماعت تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس میں آرمی چیف توسیع فیصلے پر قانونی ٹیم سے مشاورت کی ہے۔
تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ میں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کرنی ہے یا پھر معاملہ پارلیمنٹ میں لے کر جانا ہے اس پر مشاورت مکمل نہیں ہو سکی۔
”وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں مختلف ایشو زیر بحث آئے اور کل کے فیصلے پر لیگل ٹیم نے کور کمیٹی کو آگاہ کیا۔“
ترجمان کے مطابق وزیراعظم نے اس عزم کو دہرایا کہ تحریک انصاف ،یکساں انصاف کے لیے کوشاں رہی ہے اور قانون کے راستے میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے کوششوں کو یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بابر اعوان اور علی ظفر نے کور کمیٹی کو فیصلے میں موجود سقم بارے آگاہ کیا جبکہ وزیراعظم نے کور کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان کے ادارے ریاست کے ستون ہیں۔ اداروں کو تقویت دینی ہے اور قانون اور آئین کیساتھ کھڑا ہونا ہے۔
فردوس عاشق نے بتایا کہُقانونی ٹیم اس حوالے سے لائحہ عمل بارے کمیٹی کابینہ کو آگاہ کرے گی تو موقف سامنے آئے گا۔
وزیراعظم کا ملائشیاء کے دورے کے ملتوی ہونے باری قیاس آرائیول چل رہی تھیں۔ ”اس سے جُڑے محرکات سے کور کمیٹی کو آگاہ کیا۔ او آئی سی ہمارا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس سے اُمّہ کیساتھ جُڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان ملت اسلامیہ کو اکٹھا کرنے کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کسی ایک ملک کے واحد مفاد کیساتھ کھڑا نہیں ہونا چاہتا۔“
فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں، کوئی مقدس گائے نہیں۔ کسی طور بھی مریم نواز کی بیرون ملک جانے کی خواہش پوری نہیں ہوگی۔
واضح رہے کہ منگل کو پاکستان کے سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کی جانب سے سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے کے بعد فوج کی جانب سے اضطرابی کیفیت کا بیان جاری کیا گیا تھا۔

