پاکستان24 متفرق خبریں

عدلیہ کو بدنام کرنے کی گھناؤنی مہم شروع ہے، چیف جسٹس

دسمبر 20, 2019

عدلیہ کو بدنام کرنے کی گھناؤنی مہم شروع ہے، چیف جسٹس

پاکستان کے چیف جسٹس آصف کھوسہ نے اپنے الوداعی خطاب میں کہا ہے کہ نہ صرف چیف جسٹس بلکہ پوری عدلیہ کے ادارے کو بدنام کرنے کے لیے گھناؤنی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے مجھ سے جھوٹ منسوب کیا کہ آدھی رات کو خصوصی عدالت کے مختصر فیصلے کے بارے میں میڈیا سے بات کی۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تحریری خطاب سے قبل کہا کہ ”انہیں اور عدلیہ کو بدنام کرنے کی گھناؤنی سازش کی جا رہی ہے۔ غداری کیس کے تفصیلی فیصلے کے بعد تضحیک آمیز مہم چلائی گئی لیکن سچ ہمیشہ زندہ رہتا ہے اور سچ کا ہمیشہ بول بالا ہوگا۔“

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے اعزازمیں فل کورٹ ریفرنس میں سپریم کورٹ کے ججز، وائس چیئرمین پاکستان بارکونسل اورسپریم کورٹ بار کے صدر نے شرکت کی۔


جسٹس قاضی فائزعیسی چھٹی پر ہونے اور اٹارنی جنرل انور منصور خان بیرون ملک ہونے کے باعث شریک نہ ہوسکے۔


چیف جسٹس نے کہا کہ مشرف کیس پر میرے اثرانداز ہونے سے متعلق بات تضحیک آمیز ہے۔ آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ’مجھ پرعائد الزام بے بنیاد اور غلط ہے، سچ ہمیشہ زندہ رہتا ہے، سچ کا ہمیشہ بول بالا ہوگا۔
چیف جسٹس نے خطاب میں فہمیدہ ریاض کی نظم ”فیض کہتے“ پڑھی۔‘
تم اپنی کرنی کر گزرو

جو ہوگا دیکھا جائے گا


جس پر کمرہ عدالت نمبر ایک تالیوں سے گونج اٹھا۔

چیف جسٹس نے اپنے دور میں سپریم کورٹ اور عدلیہ میں کی جانی والی اصلاحات کا بھی ذکر کیا۔


چیف جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ وہ کیا جو صحیح سمجھا اور جو کرنا ضروری سمجھا۔

انہوں نے کہا کہ کبھی اس سے فرق نہیں پڑا کہ ان کے قانونی فیصلے کے نتائج کیا ہوں گے یا ہو سکتے ہیں ـ


چیف جسٹس نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ ایک جج کو سب کے ساتھ انصاف کرنے کے ساتھ شیر جیسا دل رکھنا چاہیے، لوہے جیسے مضبوط اعصاب اور ذہانت و ہمدردی سے بھرپور ہونا چاہیے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے