پاکستان

جب ’فخرو بھائی‘ کو خوفزدہ کیا گیا

جب فخرالدین جی ابراہیم کو چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے ہٹانے کے لیے ان کی بوہری برادری کو نشانہ بنایا گیا

جنوری 8, 2020

جب ’فخرو بھائی‘ کو خوفزدہ کیا گیا

تحریر: عبدالجبار ناصر
”مجھے معلوم ہے کہ مجھے خوفزدہ کرنے اور شفاف الیکشن سے روکنے کے لئے ’’میری برادری“ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے مگر میں خوفزدہ ہوں گا اور نہ ہی اصولوں پر سودے بازی کروں گا، میں نے زندگی کے دن پورے کئے ہیں، اب خواب شفاف انتخاب اور پاکستان کی ترقی ہے۔“

یہ الفاظ سابق چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر)فخر الدین جی ابراہیم (فخرو بھائی )کے تھے ، جنہوں نے نومبر 2012ء میں بطور چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان میں ایک مختصر ملاقات کے دوران مختصر گفتگو میں کہے تھے۔

فخرو بھائی سے ہماری زندگی میں صرف دو ہی ملاقاتیں ہوئی اور بہت ہی مختصر گفتگو ہوئی ۔فخرو بھائی بہت شریف النفس ، بے لوث، دیانتدار اور مخلص پاکستانی تھے ، ترقیافتہ پاکستان ان کا خواب تھا۔18 ستمبر سے نومبر 2012ء کے پہلے ہفتے تک کراچی اور حیدر آباد میں ’’بوہری برادری ‘‘سے تعلق رکھنے والے 11 افراد فائرنگ اور دھماکوں میں جاں بحق اور 32افراد زخمی ہوئے۔ سب پریشان تھے کہ اچانک ’’بوہری برادری‘ کو نشانہ بنانے کا مقصد کیا ہے۔

ایک روز ہمیں اطلاع میں ملی کہ جاں بحق اور زخمی افراد میں چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر)فخرالدین جی ابراہیم کے قریبی عزیز یا جاننے والے افراد بھی ہیں۔ پھر ہمیں اطلاع ملی کہ چیف الیکشن کمشنر کافی فکر مندیا دبائو میں بھی ہیں ۔ اسی دوران فخر الدین جی ابراہیم سے ملاقات کی ہم نے کوشش کی مگر کئی بار ممکن نہیں ہوا۔ ایک بار اچانک صوبائی الیکشن کمیشن میں فخرو بھائی سے سامنا ہوا اور اپنے کمرے میں ساتھ لے کر گئے۔

مختصر گفتگو کے بعد دعا ہوئی اور پھر اپنی خبر کی تصدیق کے لئے ہم نے موقع تلاش کرکے کہاکہ ’’کراچی میں کیا شفاف انتخابات ممکن ہیں ، حالات بہت خراب ہیں‘‘۔ فخرو بھائی نے بہت ہی مختصر انداز میں کہا کہ’’میں نے کبھی اصولوں پر سودے بازی نہیں کی ہے اور میری زندگی کا خواب ہے کہ شفاف الیکشن ہو ، چاہے مجھے کوئی قربانی دینی پڑے‘‘۔ کچھ دیر خاموش رہے پھر کہا’’مجھے معلوم ہے کہ مجھے خوفزدہ کرنے اور شفاف الیکشن سے روکنے کے لئے میری برادری کو نشانہ بنایا جارہا ہے مگر میں خوفزدہ ہوں گا اور نہ ہی اصولوں پر سودے بازی کرونگا۔میں نے زندگی کے دن پورے کئے ہیں، اب خواب شفاف انتخاب اور پاکستان کی ترقی ہے‘‘۔

اسی دوران چائے کا کپ بھی ختم ہوا اور ہم نے اجازت چاہی کیونکہ خبر کی تصدیق ہوگئی تھی مگر ریکارڈنگ یا کوئی تحریر نہیں تھی ۔ ہم نے الیکشن کمیشن کے کئی دوستوں سے بات کی تو انہوں نے بھی کہا کہ فخرو بھائی بوہری برادری کے افراد کے خلاف کارروائیوں پر نہ صرف پریشان ہیں بلکہ ان پر دبائو بھی ہے کہ مستعفی ہوجائیں۔ زبانی طور پر خبر کئی جگہ سے تصدیق ہوئی کہ بوہری برادری پر حملے دراصل کراچی میں کمپیوٹرائزڈ ووٹرز فہرست اور گھر گھر ووٹرز تصدیقی عمل میں خلل پیدا کرناہے۔

مکمل اطمنان کے بعد ہم نے یہ خبر 11 نومبر کو فائل کی اور 12نومبر 2012ء کو روز نامہ دنیا کراچی کی پہلی اشاعت کے صفحہ اول پر شائع ہوئی ۔ فخرو بھائی نے خود یا ان کے حوالے سے کسی نے تردید تو نہیں کی مگر ’’شاہ سے شاہ کے وفادروں‘‘نے کافی پرپیگنڈا کیاکہ غلط خبر ہے۔ اس خبر کی اشاعت کے ٹھیک 8ماہ 22 دن بعد 31 جولائی 2013ء کو فخرو بھائی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا اور اپنے استعفے میں لکھا کہ ’’مجھ پر دبائو ڈالنے کے لئے میری برادری پر حملے کئے گئے ‘‘، یہ الفاظ ستمبر اور نومبر 2012ء میں بوہری برادری میں ہونے والے حملوں کے حوالے سے تھے۔یوں فخروبھائی نے 8ماہ 22 دن بعد روزنامہ دنیا کی خبر کی تصدیق کی۔

فخرالدین جی ابراہیم بہت ہی اصول پسند ، دیانت دار، شریف النفس اور محب وطن تھے ۔پاکستان کی ترقی ان کا خواب تھا۔ مگر افسوس کہ ہم نے اس عظیم انسان کو بھی نہیں معاف نہیں کیا اور ان پر 2013ء کے عام انتخابات میں دھاندلی کا سنگین الزام لگایا۔ ہم نے ہمیشہ اپنے محسنوں کو یہی صلہ دیاہے ۔ فخرو بھائی اب ہم میں نہیں رہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے