آزادی صحافت کم، صحافی یوٹیوب پر ہیں
پاکستان کی سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا ہے کہ لگتا ہے ملک میں صحافت کی آزادی کم ہو رہی ہے، صحافی یوٹیوب پر جا رہے ہیں۔
عدالت عظمی میں سپریم کورٹ کے وکیلوں کی ہاوسنگ سوسائٹی کے لیے اراضی ایکوائر کرنے کے کیس کی سماعت کے دوران جسٹس فائز عیسی نے یہ ریمارکس دیے۔
جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
اسلام آباد کے موضع تمہ اور موریاں کے متاثرین کے وکیل نعیم بخاری عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ ہائی کورٹ توہین عدالت کی درخواست سنتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ختم نہیں کر سکتی۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم نے 27 دسمبر 2018 کو قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا، آپ کو تو سپریم کورٹ نے طلب نہیں کیا تھا آپ کیوں پیش ہو گئے۔
متاثرین کے وکیل نے کہا کہ ان کو بغیر سنے ہی فیصلہ ہوا اس لیے عدالت میں پیش ہوا ہوں، سابق وزیراعظم نے وکلا سے ڈنر پر ملاقات کر کے زمینوں کی یقین دہانی کرائی تھی۔
جسٹس قاضی فائز نے پوچھا کہ یہ بتائیں کہ یہاں سی ڈی اے ایکٹ لاگو ہو گا یا لینڈ ایکوزیشن ایکٹ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پہلے یہ دیکھنا ہے کہ قانون کون سا لاگو ہو گا، اس کے بعد دیکھیں گے کہ متاثرین کا معاملہ ہم دیکھیں گے یا ہائی کورٹ۔
وکیل نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ زمین مالکان کو سنے بغیر ہائی کورٹ نے آڈر جاری کیا عدالت کو تمام فریقین کو سننا چاہیے تھا۔ سیکشن 9 کے حوالے سے کسی قسم کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا تھا اس معاملے پر عدالت کو گمراہ کیا گیا۔
نعیم بخاری کے مطابق سارا عمل قانون کے مطابق نہیں ہوا ہماری زرعی زمینیں ہیں غیر آباد نہیں، ہم مالکان معاہدے کے پابند نہیں ہیں۔
نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ معاملہ ہاوسنگ فاونڈیشن اور وکلا کے مابین ہوا تھا مالکان شامل نہیں تھے، لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کا اطلاق اسلام آباد میں نہیں ہو سکتا، لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔
ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سی ڈی اے آرڈیننس سپیشل قانون ہے اس کا اطلاق قابل عمل ہے، سی ڈی اے کا کام پاننگ اور ڈویلپمنٹ ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سی ڈی اے قوانین کے مطابق پرائیویٹ بلڈر زمین خرید کر سوسائٹی بنا سکتا ہے۔
ہاؤسنگ کے وکیل کے مطابق سی ڈی اے کی سکیم اور زمینوں کا حصول مفاد عامہ کے لیے ہو سکتا ہے۔ متاثرین و زمین مالکان کے وکیل نے کہا کہ یہ مفاد عامہ کا معاملہ نہیں، کروڑ پتی وکیلوں کے لیے مہنگی زمین سرکاری دھونس سے اونے پونے لی جا رہی ہے۔
عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

