پارلیمنٹ لاجز میں غیر قانونی مقیم قانون ساز
ایک تحقیق کے مطابق کم از کم 46 ایسے ارکان قومی اسمبلی اور سینٹرز ہیں جو اسلام آباد اور راولپنڈی میں اپنے ذاتی گھر ہونے کے باوجود قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پارلیمنٹ لاجز اور گورنمنٹ ہاسٹل میں سرکاری رہائش گاہیں استعمال کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ شاہانہ پارلیمنٹ لاجز جن پر سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے خرچ آتا ہے ان کو اراکین پارلیمنٹ صرف 6000 روپے ماہانہ ادا کرکے رہائش رکھ سکتے ہیں۔

@M_AsadChaudhry
ایوان اور لائبریری کمیٹی کے منظور کردہ پارلیمنٹ لاجز اور گورنمنٹ ہاسٹل میں الاٹمنٹ کی شرائط و ضوابط کے مطابق، ہر ممبر قومی اسمبلی اور سینیٹر کو ایک عدد فیملی سوٹ حاصل کرنے کی اجازت ہے۔ تاہم ان ہی اصولوں کی شق 4 میں واضح طور پر لکھا ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں اپنے ذاتی مکانات رکھنے والے اراکین کو پارلیمنٹ لاجز میں الاٹمنٹ نہیں کی جائے گی لیکن ایم این اے اور سینیٹرز مستقل مذکورہ اصول کی خلاف ورزی کررہے ہیں جبکہ متعلقہ ادارے اور آڈٹ حکام اس پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جمع کرائے گئے پارلیمنٹیرینز کے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات کے مطابق، 26 سینیٹرز اور 38 ایم این ایز سمیت کل 64 ممبران کے اسلام آباد اور راولپنڈی میں اپنے ذاتی مکانات ہیں تاہم مجموعی طور پر ان میں سے 46 ارکان پارلیمنٹ غیر قانونی طور پر سرکاری رہائش گاہیں استعمال کررہے ہیں، 7 ممبران وزیر ہیں اس لیے وہ پارلیمنٹ لاجز کے بجائے منسٹر کالونی میں رہائش پذیر ہیں جبکہ صرف 11 ممبران ایسے ہیں جنہوں نے اپنے گھر ہونے کی وجہ سے پارلیمنٹ لاجز حاصل نہیں کیے۔
سینیٹرز میں سے ڈاکٹر راحیلہ مگسی چک شہزاد اسلام آباد میں ایک بنگلہ کے مالک ہیں لیکن پارلیمنٹ لاجز کے بلاک ایچ میں بھی کمرہ نمبر 202 ان کے پاس ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل عبد القیوم مارگلہ روڈ، سیکٹر ایف 11/2 اسلام آباد میں اپنے گھر کے مالک ہیں لیکن وہ کمرہ نمبر 309 میں رہائش پذیرہیں۔ سینیٹر ولید اقبال کے پاس اسلام آباد کے چک شہزاد میں ایک فارم ہاؤس ہے مگر پھر بھی بلاک جی میں کمرہ نمبر 202ان کے لیے مختص ہے۔
سینیٹر نجمہ حمید کا سیٹیلائٹ ٹاؤن بلاک ایف راولپنڈی میں اپنا مکان ہے، لیکن وہ بلاک ایف میں کمرہ 207 استعمال کررہی ہیں جبکہ سینیٹر اسلام الدین دین شیخ سیکٹر جی۔ 10 میں اپنا مکان ہونے کے باوجود کمرہ 403 بھی استعمال کررہے ہیں۔سینیٹر عتیق شیخ بحریہ ٹاؤن، فیز 1 اسلام آباد میں ایک مکان کے مالک ہے لیکن بلاک جی میں کمرہ109 استعمال کررہے ہیں۔سابق چیئر مین میاں رضا ربانی کے کنٹری کلب اپارٹمنٹس اسلام آباد میں رہائشی جائیداد ہے، لیکن وہ بلاک اے میں کمرہ نمبر 308 استعمال کر رہے ہیں۔ سینیٹر لیاقت خان کا سیکٹر F7/2 میں اپنا گھر ہے لیکن وہ بلاک J میں کمرہ نمبر 05میں رہائش پذیر ہیں۔
سینیٹر جاوید عباسی ایف 11 اسلام آباد میں ایک مکان کے مالک ہیں لیکن بلاک اے میں کمرہ307 کو بھی استعمال کرتے ہیں۔ پروفیسر مہر تاج روگانی نے اپارٹمنٹ نمبر ایف ایف04، G-7، اسلام آبادمیں ظاہر کیا ہے لیکن وہ بلاک ایچ میں کمرہ 108 کا استعمال کر رہے ہیں۔سینیٹر احمد خان سینٹورس مال اسلام آباد میں ایک اپارٹمنٹ کے مالک ہیں لیکن بلاک جے میں کمرہ 11 بھی ان کے لیے مختص ہے۔ سینیٹر ڈاکٹر اشوک کمار کی بھی اسلام آباد میں ذاتی رہائش ہے لیکن وہ بلاک ای کے کمرہ نمبر211 میں رہائش پذیر ہے۔
سینیٹر اورنگ زیب خان بحریہ ٹاؤن میں رہائشی مکان کے مالک ہیں لیکن بلاک اے میں کمرہ 05 استعمال کرتیہیں۔ سینیٹر تاج محمد آفریدی نے راولپنڈی میں متعددجائیدادوں کو ظاہر کر رکھا ہے، لیکن پھر بھی وہ بلاک ایف میں کمرہ 108 استعمال کررہے ہیں۔ سینیٹر سجاد حسین اسلام آباد کے سیکٹر G-11 اور F-11 میں دو گھروں کے مالک ہیں لیکن اسے کے باوجود بلاک اے میں کمرہ 305 ان کو الاٹ کیا گیا ہے۔
دوسری طرف، ایم این اے محمد بشیر خان نے بحریہ ٹاؤن اسلام آباد میں ایک کنال کا گھر ظاہر کیا ہوا ہے لیکن وہ بلاک J کے کمرہ نمبر 01 میں رہتے ہیں۔ جنید اکبرG-10 میں مکان کے مالک ہیں لیکن بلاک J میں کمرہ 411 بھی استعمال کر رہے ہیں۔عمران خٹک سیکٹر جی 13/2 میں ایک مکان کے مالک ہیں، لیکن بلاک ایچ میں کمرہ نمبر307 استعمال کرتے ہیں۔ نور عالم خان کا بنی گالہ میں ذاتیگھر ہے لیکن بلاک سی میں کمرے 108 میں رہائش پذیر ہیں۔ شوکت علی بحریہ ٹاؤن راولپنڈی میں 10 مرلہ مکان کے مالک ہے لیکن وہ بلاک جیکے کمرہ نمبر 402 میں رہائش پذیر ہیں۔
خیال زمان کا بحریہ ٹاؤن راولپنڈی،فیز 3 میں ذاتی مکان ہے، لیکن وہ بلاک جی میں کمرہ 306 میں رہتے ہیں۔ راجہ خرم نواز جو کہ دارالحکومت سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی ایم این اے ہیں، اور ان کا اسلام آباد کے علاقے تمیر میں اپنا گھر ہے وہ بھی سرکاری ہاسٹل میں فیملی سوٹ نمبر 15میں رہتے ہیں۔صداقت علی خان کاI-8 میں اپنا ذاتی گھر ہے، لیکن وہ بلاک جے میں کمرہ 108 میں رہ رہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کی F-8 میں ذاتی رہائش ہے، لیکن وہ بلاک ایفکے کمرہ 202 میں رہائش پذیر ہیں۔ غلام سرور خان کے راولپنڈی کے علاقے ٹیکسلاء میں رہائشی جائداد ہے، لیکن اس کیباوجود وہ بلاک جے میں کمرہ 305 پر بھی قابض ہیں۔
شیخ رشید شفیق نے راولپنڈی میں دو مکانات ظاہر کر رکھے ہیں لیکن وہ گورنمنٹ ہاسٹل میں فیملی سوٹ نمبر 11کو بھی استعمال کررہے ہیں۔ وفاقی وزیر فواد چوہدری کے کزن چودھر ی فرخ الطاف کے سیکٹر ای 7 میں دو گھر ہیں لیکن وہ بلاک جی میں کمرہ 205 میں رہ رہے ہیں۔
مہناز اکبر عزیز F-6/2 میں ایک مکان کی مالک ہیں، لیکن بلاک ایچ کے کمرے 311 کا استعمال کر رہی ہیں۔ چوہدری برجیس طاہر نے سیکٹر جی 10 میں دو فلیٹس ظاہر کر رکھے ہیں لیکن وہ بلاک سی میں کمرہ 205 بھی استعمال کر رہی ہیں۔ شاہد خاقان عباسی کا ذاتی گھر F7 میں ہے لیکن وہ بلاک جے میں کمرہ 09 استعمال کررہے ہیں۔ میاں ریاض حسین پیرزادہ کا موہڑہ نور میں 3 کنال کا گھر ہے لیکن بلاک ای میں کمرہ نمبر107 انہیں الاٹ کیا گیا ہے۔ مخدوم سمیع الحسن کا خداداد ہائٹس اسلام آباد میں اپارٹمنٹ ہے، لیکن وہ بلاک ای میں کمرہ 104 استعمال کررہے ہیں۔
شیخ فیاض الدین کا F6/1، اسلام آباد میں اپنا گھر ہے لیکن وہ بلاک اے میں کمرہ 404 استعمال کررہے ہیں۔ مخدوم خسرو بختیار کے پاس سیکٹر F8/3 میں ذاتی رہائش ہے لیکن وہ بلاک جے میں کمرہ 407 استعمال کررہے ہیں۔ خالد احمد خان لنڈسیکٹر F10 اسلام آباد میں ایک گھر کے مالک ہیں لیکن وہ کمرہ نمبر 403 استمال کررہے ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری کے بہنوئی میر منور تالپور کا F-8/2 میں ذاتی گھر ہے مگر وہ بلاک ای میں کمرے 208 میں مقیم ہیں۔
طاہرہ اورنگزیب کا سیٹیلائٹ ٹاؤن، راولپنڈی میں اپنا مکان ہے، لیکن ان کا بلاک جے میں کمرہ 302 بھی ہے۔ سابق مشیر خارجہ زوجہ سیدہ زہر ہ ودود فاطمی کا بنی گالا میں ایکگھر ہے لیکن وہ گورنمنٹ ہاسٹل میں فیملی سویٹ 13 میں رہائش پذیر ہیں۔زیب جعفرF-8/3میں ایک گھر کی مالک ہیں لیکن وہ بلاک ایف میں کمرہ105 میں رہائش پذیر ہے۔ سیما محی الدین جمالی نے اپنی ذاتی رہائش گاہ کوI-8/2 میں ظاہر کیا ہے لیکن وہ بلاک ایف کمرے 105 میں رہتی ہیں۔
اسما قدیر ایک مکان 36، ایگزیکٹو لاجز بحریہ ٹاؤن راولپنڈی کی مالک ہیں، لیکن وہ گورنمنٹ ہاسٹل کے فیملی سوٹ 42 میں رہ رہی ہیں۔ کنول شوزب I-8 میں ایک گھر کی مالک ہیں، لیکن وہ گورنمنٹ ہاسٹل میں فیملی سوٹ 35 میں رہ رہی ہے۔ عالیہ کامران نے اسلام آباد میں ایک گھر کی مالکیت ظاہر کر رکھی ہے لیکن وہ بلاک ایچ میں کمرہ 107 استعمال کررہی ہیں۔ رمیش لال سیکٹرF-6 میں ایک گھر کے مالک ہیں لیکن وہ بلاک جی میں کمرہ نمبر 212 بھی استعمال کررہے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر پارلیمنٹ کے بلاک اے میں 207 نمبر کمرہ بھی الاٹ کروا کے بیٹھے ہیں جبکہ ان کے پاس بنی گالا میں اپنا مکان ہونے کے ساتھ ساتھ سپیکر ہاوس بھی ہے۔
جہاں اس خبر میں ان لوگوں کا ذکر ہے جنہوں نے تمام اصول وضوابط اور اخلاقی اقدار کو پس پشت ڈال کر ان سرکاری رہائش گاہوں کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھا ہوا ہے وہاں پر ہی کچھ ممبران ایسے بھی ہیں جنہوں نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں اپنے ذاتی گھر ہونے کی وجہ سے سرکاری لاجز کی سہولت سے فائدہ نہیں اٹھایا ہے۔ ان ممبران میں ایم این اے بلاول بھٹو زرداری،عامر محمود کیانی، سینیٹرز اسد علی جونیجو، چوہدری تنویر علی خان، راجہ ظفر الحق، ڈاکٹر شہزاد وسیم، نذہت صادق، مصطفی نواز کھوکر، سید شبلی فراز، محسن عزیز اور طلحہ محمود شامل ہیں۔ تاہم ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے کچھ ممبران ماضی میں پارلیمنٹ لاجز میں رہائش پذیر تھے۔
پارلیمنٹ لاجز اور سرکاری ہاسٹل، کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی تحویل میں ہیں، لیکناراکین پارلیمنٹ کو الاٹمنٹ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلیکرتے ہیں۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے متعلقہ تعلقات عامہ کے شعبوں کو روزنامہ دی نیشن کی جانب سے اوپر بیان کیے گئے حقائق کے روشنی میں قوانین کو نظرانداز کرتے ہوئے پارلیمنٹ لاجز کی الاٹمنٹ کے بارے میں سوالات پر مبنی تحریری درخواست چند ہفتے قبل ارسال کی گئی تھی تاہم اس خبر کے فائل کرنے تک ان کا جواب موصول نہیں ہوا۔
جب کچھ اراکین پارلیمنٹ سے سوالات پوچھے گئے تو ان کے پاس قوانین کی اس خلاف ورزی کے اپنے اپنے جواز تھے۔ایم این اے نور عالم خٹک نے کہا ہے کہ انہوں نے جو جائیداد ظاہر کی ہے وہ در اصل کاروباری مقاصد کے لئے لی گئی تھی اوران دنوں برائے فروخت ہے۔سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ انہوں نے جو اپارٹمنٹ ظاہر کیا ہے وہ اسلام آباد کی علاقائی حدود میں نہیں آتا تاہم یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ انہوں نے خود مذکورہ اپارٹمنٹ کو اسلام آباد میں ظاہر کیا ہے۔
سینیٹر ولید اقبال نے واضح کیا کہ اگرچہ انہوں نے اسلام آباد میں فارم ہاؤسظاہر کیاہے مگر در حقیقت وہ گھر نہیں بلکہ خالی پلاٹ ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص اگر اپنے گھر کی موجودگی میں پارلیمنٹ لاجز کا استعمال کرتا ہے تو وہ ایک غیر اخلاقی حرکت کر رہا ہے۔اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم نے بتایا کہ انہوں نے اسلام آباد میں ظاہر شدہ گھر کو اپنے بیٹے کے نام پر منتقل کر دیا ہے جس کے بعد وہ پارلیمنٹ لاجز میں کمرہ رکھنے کے لیے اہل ہو گئے ہیں۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کچھ ایسے پارلیمنٹرین جوڑے بھی ہیں جنہوں نے پارلیمنٹ لاجز میں ایک ساتھ رہنے کے بجائے الگ الگ لاج حاصل کرنے کو ترجیح دی ہے جیسے خواجہ آصف اور ان کی اہلیہ مسرت خواجہ بالترتیب بلاک ایف میں کمرے نمبر 301 اور 302 میں رہ رہے ہیں۔ ملک پرویز، ان کی اہلیہ شائستہ پرویز ملک اور بیٹا علی پرویز ملک بالترتیب بلاک سی کے کمرے نمبر 404، 402 اور بلاک ایچ کے کمرے 204 میں رہ رہے ہیں۔
یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ پارلیمنٹ لاجز کے کمرے یا گورنمنٹ ہاسٹل کے فیملی سوٹ سے مراد محض ایککمرہ نہیں بلکہ یہ 2 بیڈ رومز، ڈرائنگ روم، ڈائنگ ہال، کچن اور استعمال کی ہر چیز سے مزین تیار شدہ اپارٹمنٹس ہیں جو شاہراہ دستور اور سیرینا ہوٹل کے عقب میں واقع ہیں۔
یہ خبر روزنامہ دی نیشن میں 16جنوری 2020 کو شائع ہوئی۔

