سول سروس میں ڈی ایم جی کی اجارہ داری؟
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 240، 241 اور 242 پاکستان میں سول سروس کے ڈھانچے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں. اسی آئینی ہدف کے حصول کے لیے پارلیمنٹ نے سول سرونٹس ایکٹ 1973 پاس کیا. اس سے کے لیے پارلیمان میں ہونے والی بحثوں کا لب لباب یہی تھا کہ برطانیہ سے آزادی کے بعد ملک کو ایک ایسی سول سروس درکار ہے جو نو آبادیاتی طرزِ حاکمیت کی آئینہ دار ہونے کی بجائے ایک آزاد قوم کی سول سروس شمار کی جا سکے. اسی مقصد کے لیے 1973 کی سول سروس اصلاحات متعارف کروائی گئیں جن میں 14 پیشہ ورانہ گروپس/سروسز بنائے گئے تاکہ سول ملازمین میں پیشہ ورانہ مہارت کو فروغ دیا جائے اور ان اصلاحات کے اطلاق کے لیے سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے ذریعے یہ یقینی بنایا گیا کہ سب سول ملازمین اپنے گروپ کے اندر رہتے ہوئے بلا تعطل اپنا کیریئر آگے بڑھا سکیں اور ماضی میں رائج CSP کی طرز پر کچھ اسامیوں کو چند افسروں کے لیے مخصوص کرنے کی روایت بدلی جائے. ایک گروپ ڈی ایم جی کے نام سے بنایا گیا جس کی تشکیل و ترتیب مندرجہ ذیل ہے:
- کمشنر، ڈپٹی کمشنر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کی پوسٹس
- ڈپٹی کمشنر کی پوسٹس پر پولیس، آرمی، ملٹری لینڈ اور کنٹونمنٹ گروپ اور سول انتظامیہ کے افسران میں سے سلیکشن کی بنیاد پر تعیناتی کی جائے گی.
- ڈی ایم جی افسران ایک امتحان پاس کرنے اور تین سے چار ماہ کی تربیت حاصل کرنے کے بعد سیکریٹریٹ میں تعیناتی کے اہل ہوں گے. ڈپٹی سیکریٹری اور اس سے بالا تمام آسامیاں اسی طریقہ کار کے مطابق بھری جائیں گی.
ان اصلاحات کا مقصد نو آبادیاتی دور کی یادگار ایک حاکمانہ سروس کا خاتمہ اور خاص پیشہ ورانہ گروپس کو ایک مخصوص تربیت کے بعد اور ایک مخصوص دائرہ کار میں کام کے ذریعے سے سے فروغ دینا تھا. اس کے ساتھ ساتھ سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا کہ اپنی سروس میں رہتے ہوئے ہو افسر کے لیے اعلی عہدوں تک ترقی ممکن بنائی جائے.
وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں اعلی عہدوں پر تقرریوں کے لیے گریڈ 19 سے سیکریٹریٹ گروپ تشکیل دیا گیا. صوبائی پوسٹس پر تقرریوں کے لیے آل پاکستان یونیفائڈ گریڈ (APUG) وضع کیے گئے. سیکریٹریٹ گروپ کا حصہ آفس مینجمنٹ گروپ (OMG) کے گریڈ 19 اور اس سے اوپر کے افسران ہیں جیسا کہ سیکریٹریٹ گروپ کے آئین میں واضح کر دیا گیا ہے.
موجودہ صورتحال
اصل صورتحال یہ ہے کہ 1973 سے لے کر آج تک DMG نہ صرف ضلعی انتظامیہ کی آسامیوں پر بلا شرکتِ غیرے براجمان ہے بلکہ اپنے ہی آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سول سروس کے قوائد و ضوابط کو بدلتی اور توڑ مروڑ کر استعمال کرتا رہا ہے، تا حالیکہ وفاقی اور صوبائی سیکرٹری کی 90 فیصد اور تقریباً تمام کارپوریشنز اور خود مختار اداروں کے سربراہان کی آسامیوں پر قابض ہے. اس صورتحال نے نہ صرف ICS/CSP دور کی نو آبادیاتی حاکمانہ انتظامیہ کی یاد تازہ کر دی ہے بلکہ دوسرے سروس گروپس میں مایوسی اور بے چینی کی باعث بھی ہے، خاص طور پر OMG/SG میں۔
ماجرا یہ ہے کہ صرف ایک گروپ کی اجارہ داری قائم ہوتی جا رہی ہے. ایک طرف تقرریاں اور ترقیاں صرف گروپ کی بنیاد پر عمل میں آتی ہیں تو دوسری جانب ڈی ایم جی افسران کی وفاقی حکومت اور سیکریٹریٹ کے متعلق کم علمی اور تجربہ کی کمی سے کارکردگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
حقیقتاً، گریڈ 19 اور اس سے اوپر کی تمام پوسٹس سیکریٹریٹ گروپ کے افسران کے لیے ہیں، جس کا فیڈنگ کیڈر OMG ہے اور باقی گروپس کو بھی اس میں مختلف درجوں پر مخصوص حصہ ملتا ہے.
ترقی کے لیے آسامیوں کا شمار
تمام صوبوں کے چیف سکریٹری کی پوسٹس تقریباً ہمیشہ DMG کے زیر تسلط رہی ہیں. اسی طرح صوبائی اور وفاقی اسٹیبلشمنٹ سیکرٹری، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے دونوں ایڈیشنل سیکرٹری، جوائنٹ سیکرٹری، سیکرٹری کابینہ ڈویژن اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کی پوسٹس بھی انہیں کے قبضے میں ہیں. DMG افسران کی ترقیوں کے لیے آسامیوں کا شمار یہی افسران کرتے ہیں. یہ شمار بہت مبہم اور سمجھ سے بالاتر ہے کہ 700 افسران کے کیڈر کے لیے گریڈ 19 میں ترقی کے لئے 300 آسامیاں ہر DSB کو کہاں سے میسر آتی ہیں؟ اسی طرح گریڈ 20 میں ترقی کے لئے 125 سے زائد، گریڈ 21 کے لیے 60 سے زائد اور گریڈ 22 کے لیے 75 فیصد آسامیوں کا انتظام بھی موجود ہے۔
اس شمار میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور کمشنر کی پوسٹس (جو کہ DMG کے آئین میں موجود ہیں) کے علاوہ صوبائی اور وفاقی سیکرٹری اور تمام سرکاری اداروں کی آسامیاں بھی شامل ہیں. اور یہ ممکن بنایا گیا ہے معترضہ، امتیازی اور صرف DMG کی خاطر بنائے گئے قوانین و ضوابط کے ذریعے، جن کو پیش کرنے اور منظور کرنے والے دونوں DMG افسران ہیں. یہ قوانین و ضوابط آئین، سول سرونٹس ایکٹ 1973 اور اعلی عدلیہ کے بہت سے فیصلوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں. سول سروس اصلاحات سے لے کر آج تک کے اعداد و شمار ان حقائق کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
ترقیوں میں امتیازی سلوک
مرکزی سلیکشن بورڈ (CSB)، ڈیپارٹمنٹل سلیکشن بورڈ (DSB)، اور اعلی اختیاراتی سلیکشن بورڈ (HPSB) کچھ اس طرح تشکیل دیے جاتے ہیں کہ 100 فیصد یا 75 فیصد سے زیادہ ممبران کا تعلق DMG سے ہوتا ہے. ان کے ذریعے نہ صرف مرضی کے مطابق ترقیاں دی جاتی ہیں بلکہ آسامیوں کے شمار پر بھی کوئی سوال نہیں اٹھایا جاتا. اپنے ہم پیشہ DMG افسران کی ترقیوں کی خاطر یہ بورڈ اکثر جانب داری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور دوسرے گروپس کے گریڈ 20 کے افسران کے مستقبل کا خیال کیے بغیر DMG افسران کو ترقیاں دی جاتی ہیں. DSB, CSB, اور HPSB کی تشکیل سے متعلق سابقہ ریکارڈ سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ DMG افسران ڈپٹی سیکرٹری کی پوسٹ پر کبھی بھی نہیں اور جوائنٹ سیکرٹری کی پوسٹ پر شاذونادر رکھے جاتے ہیں، حالانکہ اول الذکر کی 25 فیصد اور آخر الذکر کی 35 فیصد آسامیاں DMG کے لیے مخصوص ہیں. یہ وہ پوسٹس ہیں جن کے لیے نہ تو انہیں نوکری دی گئی تھی، اور نہ ہی کوئی ٹریننگ دی گئی. ان پوسٹس کو کمتر سمجھ کر ڈی ایم جی افسران ان پر آنا پسند نہیں کرتے لیکن ہر DSB اور CSB میں یہ پوسٹس شمار ہوتی رہتی ہیں اور ان کی طرف سے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا جاتا۔
تقرریوں اور تبادلوں میں امتیازی سلوک
آفس مینجمنٹ گروپ کے افسران 10 سے 12 سال تک وفاقی سیکریٹریٹ میں ڈیسک آفیسر کے طور پر کام کرتے ہیں. اس دوران وہ نہ صرف پالیسی، ایڈمنسٹریشن، فنانس، قانونی اور دیگر امور سے متعلق فرائض سرانجام دیتے ہیں، بلکہ بین الاقوامی تعاون اور بین الصوبائی روابط جیسے معاملات بھی سنبھالتے ہیں. مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں میں کام کرنے کے نتیجے میں وہ ہر نوعیت کے سرکاری اداروں سے رابطے میں رہتے ہیں. لیکن جب انہیں وفاقی سرکاری اداروں میں تعیناتی کا موقع آتا ہے تو ان OMG افسران کو نظر انداز کر کے DMG افسران کو تعینات کیا جاتا ہے اور ان آسامیوں پر انہیں ترقیاں بھی دی جاتی ہیں. اس کے نتیجے میں یہ آسامیاں DMG افسران کی چراگاہوں کی حیثیت اختیار کر چکی ہیں، اور مسلسل ان کی کم علمی کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں۔
قوانین و ضوابط میں یک طرفہ ترمیمیں
جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے، تمام وہ اہم پوسٹس DMG کے قبضے میں ہیں جن کا تعلق قوانین، قواعد اور پالیسی سازی برائے سول سروس سے ہے. وہ 2014 کے ایس آر او (SRO) 88 اور 89 کے ذریعے ان قواعد و ضوابط کو توڑنے مروڑنے، سیکریٹریٹ گروپ کی آسامیوں پر ترقیاں حاصل کرنے اور سول سرونٹس ایکٹ میں ترمیم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، تاکہ PAS کے نام کے ساتھ CSP کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے. اس کے نتیجے میں دوسرے پیشہ ورانہ گروپس کا استحصال ہو رہا ہے، جیسا کہ OMG, SG, CTG اور انکم ٹیکس کے گروپس۔
موجودہ سول سروس اصلاحات کمیٹیوں میں DMG کی اجارہ داری
فی الحال دو سول سروس اصلاحاتی کمیٹیاں کام کر رہی ہیں جن میں اکثریت ریٹائرڈ DMG افسران کی ہے جبکہ کسی اور CSS کیڈر کی نمائندگی نہیں ہے. یہ کمیٹیاں ایسی اصلاحات پیش کر رہی ہیں جو کسی نہ کسی شکل میں DMG کی حاکمانہ اجارہ داری کو دوام بخشنے کا مقصد رکھتی ہیں. وزیراعظم کے سینئر مشیران، خواجہ ظہیر اور بیرسٹر ظفر اللہ ریٹائرڈ DMG افسران ہیں جبکہ زاہد حامد بھی سابقہ ڈی ایم جی افسر ہیں، اور باقی ممبران بھی اسی گروپ سے ہیں۔
رجسٹرار سپریم کورٹ DMG سے
سپریم کورٹ سے بھی DMG کے خلاف کسی داد رسی میں مشکلات درپیش ہیں کہ موجودہ اور سابقہ تین سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈی ایم جی سے تھے. رجسٹرار کا کردار سپریم کورٹ کے معاملات میں بہت اہم ہوتا ہے اور اس پر عدالت عظمی کو چاہیے کہ جوڈیشل سروس کے کسی افسر کو ہی یہ عہدہ دیا جائے تاکہ عدل و انصاف کا بول بالا ہو.
سیاسی تعلقات اور سرپرستی
اضلاع میں تقرریوں کے دوران DMG افسران سیاستدانوں کے اراضی سے متعلق اور ترقیاتی کاموں سے منسلک رہتے ہیں جس کے نتیجے میں انہیں سیاستدانوں کی حمایت اور سرپرستی حاصل رہتی ہے، جو اسی وجہ سے DMG کے غیر قانونی اور نا اہلی پر مبنی کاموں کو نظر انداز کر جاتے ہیں. لہٰذا اس وقت تک سول سروس کے باقی گروپس نا امیدی کی لپیٹ میں رہیں گے جب تک ان کو ان کے وہ قانونی حقوق نہ دیے جائیں جو بہترین گورننس کے ساتھ ساتھ سول سروس میں ایک گروپ کی اجارہ داری کے خاتمے کے ذریعے احتساب کے آغاز کی بھی ضمانت ہوں۔
لکھاری: ایک سول سروس افسر

