انسانی حقوق کمیشن کی مقتول صحافی کے لیے آواز
پاکستان میں انسانی حقوق کمیشن نے وفاقی اور سندھ حکومت سے صحافی عزیز میمن کے قتل کی آزادانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
منگل کو ایک بیان میں انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ عزیر میمن کے قاتلوں کو سزا دی جائے۔
اپنے بیان میں کمیشن نے عزیر میمن کے قتل پر دکھ کا اظہار بھی کیا ہے۔ کمیشن کے مطابق عزیر میمن نے اپنے قتل سے پہلے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں کچھ افراد کا نام لیا تھا کہ وہ ان کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔
چند دن قبل سندھ کے شہر محراب پور میں نامعلوم افراد کی جانب سے صحافی عزیز میمن کو گلہ گھونٹ کر قتل کیے جانے کے خلاف پیر قومی اسمبلی میں صحافیوں نے سخت احتجاج کیا تھا اور تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے ارکان میں تحقیقات کرانے کے لیے شور شرابہ بھی کیا گیا۔
مقتول صحافی عزیز میمن کو گذشتہ سال بلاول بھٹو کے ٹرین مارچ کے دوران شہرت ملی تھی۔ انھوں نے مارچ پر کی گئی اپنی ایک ویڈیو رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ’مارچ میں شریک افراد پیپلز پارٹی کے جیالے نہیں بلکہ ان کو دو دو سو روپے کے عوض لایا گیا ہے۔‘
عزیز میمن نے دھمکیاں ملنے کے بعد مقامی ایس ایس پی اور ممبر قومی اسمبلی کے خلاف اسلام آباد میں احتجاج کیا اور تحفظ کی اپیل بھی کی تھی۔
منگل کو قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر سے وزیر داخلہ نے صحافی عزیز میمن کے قتل کی تحقیقات کرانے کے لیے ملاقات بھی کی ہے۔

